This is a free spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲
یہاں کی ایک مکمل یونیورسٹی (full-fledged university) ہے۔ قبرص میں اور کئی یونی ورسٹیاں ہیں، لیکن ان دوسری یونی ورسٹیوں میں ہر قسم کے تعلیمی شعبے موجود نہیں۔
یہاں جن لوگوں کو اسلامی لٹریچر دیا گیا تھا، اُن میں سے ایک شام کے مسیحی پادری یوحنا ابراہیم (Mar Gregorios Yohanna Ibrahim) تھے۔ اُن کا تعلق، آرتھوڈاکس میٹروپولیٹن، سیرین چرچ (Orthodox Metropolitan, Syrian Church) سے تھا۔ اُن کو ہال کے اندر قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ دیا گیا تھا۔ پروگرام کے خاتمے پر باہر نکلتے ہوئے اُن سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ وہ اچھی عربی بولتے تھے۔ مولانامحمد ذکوان ندوی نے ان کو انگریزی پمفلٹ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ ہم کو اس ترجمہ قرآن کا ایک اور نسخہ دے سکتے ہیں۔ مولانامحمد ذکوان ندوی نے کہا کہ ضرور، مگر اس وقت میرے پاس قرآن کے سارے نسخے ختم ہو چکے ہیں۔ میں ہوٹل میں آپ کو قرآن کا ایک مزید نسخہ دے دوں گا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اُس پر شیخ وحید الدین کے دستخط مطلوب ہیں۔ ہوٹل پہنچنے پر اُن کو ایک اور نسخہ دیا گیا۔ انھوں نے خوشی کے ساتھ اس کو لیا۔
افتتاحی پروگرام سے فارغ ہو کر تمام شرکاء گاڑیوں کے ذریعے ہوٹل ہلٹن سائیپرس لائے گئے۔ یہاں سب کے لیے ڈنر (شام کے کھانے کا انتظام تھا۔ ہوٹل کے وسیع لان کے اندر تمام لوگ میزوں کے کنارے بیٹھ گئے۔ مختلف قسم کے اور ہر ذوق کے کھانے یہاں موجود تھے۔ تقریباً ہر شخص کچھ بول رہا تھا۔ مگر جہاں تک میں نے اندازہ کیا، کوئی بھی شخص کا نفرنس کے متعین موضوع پر گفتگو نہیں کر رہا تھا۔ ہر آدمی ادھر اُدھر کی باتیں کر رہا تھا، اور درمیان میں بار بار قہقہے بلند ہو رہے تھے۔ اس میں عرب اور غیر عرب دونوں قسم کے لوگ تھے، لیکن موضوع گفتگو کے اعتبار سے، کسی کا کوئی استثناء تھا۔ یہی منظر میں نے تمام کا نفرنسوں میں دیکھا ہے۔ لوگ جس موضوع کے نام پر کا نفرنس میں آتے ہیں، اُس موضوع پر وہ صرف اُس وقت بولتے ہیں جب کہ وہ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ہوں۔ اسٹیج کے بعد ان کی گفتگو کا موضوع ہمیشہ کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کا نفرنس کے اصول کے سراسر خلاف ہے۔ منتظمین کے پروگرام کے مطابق، ہر کا نفرنس کے دو حصے ہوتے ہیں—ایک، وہ جب کہ لوگ اسٹیج پر بولنے کے لیے آتے ہیں اور دوسرا، اسٹیج کے باہر۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues