Al-Risala · February 2009 · page 23

This is a free spiritual gift for you.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳

کانفرنس کے اصول کے مطابق یہ ہونا چاہیئے کہ آنے والے لوگ دونوں صورتوں میں کانفرنس کے موضوع پر بات کریں۔ اسٹیج پر وہ بحث موضوع پر تقریر کریں۔ اور اسٹیج کے باہر وہ اُس موضوع پر آپس میں ڈسکشن کریں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق، کسی کانفرنس میں ایسا نہیں ہوتا۔ البتہ وہ کانفرنسیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو کسی تکنیکل موضوع پر کی گئی ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آنے والے لوگ نہ دوسروں کو کوئی مثبت چیز دے پاتے ہیں اور نہ خود کوئی مثبت چیز لے کر وہاں سے لوٹتے ہیں۔ شام کے کھانے سے فراغت کے بعد لوگوں کو دوبارہ ان کی قیام گاہوں پر پہنچا دیا گیا۔ یہ لوگ عام طور پر بسوں کے ذریعے واپس بھیجے گئے۔ لیکن منتظمین نے ہمارے لیے خصوصی طور پر ایک بڑی کار کا انتظام کیا تھا۔ یہ کار ہمارے لیے مخصوص تھی ۔ جب تک ہم وہاں رہے، اِس کار کے ذریعے ہم سفر کرتے رہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم لوگ ہوٹل ہلٹن پارک میں آگئے، جہاں ہمارے لیے قیام کا انتظام تھا۔

اس وقت دنیا میں اقوام متحدہ کی ممبر شپ کے مطابق ، ممالک کی تعداد 192 ہے۔ کچھ ممالک اس کے علاوہ ہیں جو اقوام متحدہ کے باقاعدہ ممبر نہیں ہیں۔ قبرص کی کانفرنس میں تقریباً ایک سو ملکوں کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ یہ ہر مذہب اور ہر مکتب فکر کے لوگ تھے۔ ان میں عالمی سطح کی بڑی بڑی شخصیات بھی شامل تھیں۔ یہ لوگ مختلف قسم کے علمی اور مذہبی اور سیاسی میدانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اُن میں سے کسی کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، نہ مسلمانوں کے پاس اور نہ دوسرے مذہب کے لوگوں کے پاس ، حتیٰ کہ ان کی تقریریں بھی کنفیوژن سے بھری ہوئی ہوتی تھیں ۔ اس سے سننے والوں کو کوئی پیغام نہیں ملتا تھا۔ اس بھری ہوئی کانفرنس میں صرف ہم لوگوں کا معاملہ استثنائی معاملہ تھا۔ ہم لوگوں کے پاس اسلامی لٹریچر کا ایک بڑا ذخیرہ تھا۔ میرے ساتھی دیوانوں کی طرح اس لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانے میں سرگرم تھے۔

ایسا کیوں ہوا کہ لوگوں کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کچھ نہ تھا ۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ کسی کے لیے دوسرے لوگ اُس کا کَنْسَرن

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page