Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶
سامعین کو اختیار تھا کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق، جس پینل میں چاہیں شریک ہوں۔ مثال کے طور پر فلسطین کے ایشو پر بھی ایک پینل بنایا گیا تھا۔ اس پینل کے مقررین میں عرب بھی شامل تھے اور اسرائیلی بھی۔ ان میں سے دو خاص مقررین کے نام یہ ہیں:
Salah A. Zuheika, Deputy Minister of Religious Affairs, Palestine David Rosen, Grand Rabbi, President of the IJIC, Israel اس پینل میں دونوں جانب سے پر جوش تقریریں ہوئیں۔ عرب مقرر نے اسرائیل کو فلسطینی المیہ کا ذمہ دار بتایا۔ اور اسرائیلی مقرر نے عربوں کو سارے معاملے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ یہ ڈسکشن کسی مثبت نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ ہمارے ساتھیوں نے اس موقع پر اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ لوگوں کو دیا۔ یہاں انھوں نے راقم الحروف کا تیار کیا ہوا 15 صفحات کا ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا جس کا ٹائٹل یہ تھا: How to Establish Peace in the Holy Land— Ten Point Program یہ پمفلٹ ہمارے ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر بھی دستیاب ہے۔
17 نومبر 2008 کی صبح کو راقم الحروف کا پروگرام تھا۔ مجھے پینل نمبر 6 میں بولنے کا موقع دیا گیا۔ اس پینل کی کارروائی ہلٹن سائپرس کے ہال (Achera) میں منعقد ہوئی۔ اس پینل کے چیئر پرسن ناروے (اسکینڈی نیویا) کے بشپ (Ole Chr. M. Kvarme) کو بنایا گیا تھا۔ اس پینل میں میرے سوا چار اور مقرر تھے۔ اس پینل کا موضوع یہ تھا:
Prayer as a Source of Peace.
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سب سے پہلے یہ متعین کرنا چاہیے کہ پر یئر کی تعریف کیا ہے۔ میں نے کہا کہ لغت کے مطابق، پر یئر کا مطلب _ حقیقت اعلیٰ سے روحانی ربط قائم کرنا ہے: Dictionary meaning of the ‘prayer’ is — establishing spiritual communion with the Higher Reality. اس کے بعد میں نے بتایا کہ اسلام کے تصور عبادت اور تصور روحانیت کے مطابق ، انسان کا اصل کام اپنے خالق سے ربط قائم کرنا ہے۔ اس ربط کے ذریعے آدمی کے اندر تمام اعلیٰ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues