Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷
تقریر کے بعد ایک امریکن پروفیسر جان پناما (John Panama) مجھ سے ملے۔ انھوں نے میری تقریر پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا۔ اُن کا تازہ چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا جس میں راقم الحروف کا ایک مفصل دیباچہ شامل ہے۔ وہ قرآن کا انگریزی ترجمہ پا کر خوش ہوئے۔ اور کہا کہ کیا مجھے آپ اس کا ایک اور نسخہ دے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا میں میرے ایک دوست ہیں۔ ان کی ڈائریکٹ پہنچ براک اوباما تک ہے۔ میں قرآن کے اس نسخے کو صدر امریکا براک اوباما تک پہنچاؤں گا۔ چناں چہ انھیں اس انگریزی ترجمہ قرآن کا ایک اور نسخہ دے دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں ٹیلی فون پر براک اوباما سے آپ کی بات کرانے کی کوشش کروں گا۔
ڈسکشن کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ بہت سے مقامی طلبا اور طالبات ہال کے اندر داخل ہوئے۔ اُس وقت تمام سیٹیں بھر چکی تھیں ۔ چناں چہ وہ لوگ ہال کے چاروں طرف دیوار کے کنارے کھڑے ہو گئے ۔ اُس وقت صدر جلسہ نے اعلان کیا کہ اسٹیج کے سامنے بچھے ہوئے قالین پر جگہ خالی ہے۔ کھڑے ہوئے لوگ یہاں آکر بیٹھ جائیں۔ اس اعلان کے بعد تمام طلبا اور طالبات وہاں جا کر بیٹھ گئے۔ اُس وقت مولانا محمد ذکوان ندوی لٹریچر لیے ہوئے وہاں موجود تھے۔ انھوں نے سوچا کہ ان نوجوانوں تک کس طرح دعوتی لٹریچر پہنچایا جائے ۔ انھوں نے ایک طالب علم سے اس سلسلے میں بات کی، پھر انھوں نے اُس طالب علم کو انگریزی میں چھپے ہوئے پمفلٹ (The Reality of Life) کے کچھ نسخے دیے اور مذکورہ طالب علم سے کہا کہ اس کو اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔ طالب علم نے نہایت خوشی کے ساتھ پمفلٹ کو لیا اور اپنے ساتھیوں کو مطالعے کے لیے دے دیا۔
بعد کو ہمارے ساتھی نے اُن طلبا سے دوستانہ انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اس ملک میں امن کے پیام بر (ambassador of peace) ہیں۔ آپ کو لازماً یہ کام کرنا ہے کہ آپ پیس اور اسپرچولٹی کے اس لٹریچر کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔ اس کے بعد اُن طلبا نے ہمارے ساتھی سے لٹریچر لے لیا اور لوگوں سے مل کر نہایت جوش وخروش کے ساتھ ان کو لٹریچر دینے لگے۔ وہ یونانی زبان میں اُن سے باتیں کر کے ہمارا دعوتی لٹریچر ان کو پہنچارہے تھے۔ یہ تمام طلبا اور طالبات مذہب
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues