Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸
کے اعتبار سے کرچن تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلامی دعوت کے مشن میں ہمارا ساتھ دیا۔ 17 نومبر 2008 کو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ آسٹیریا (یورپ) کے ایک یہودی ربی (Ribbi) کی صدارت میں ایک پینل ڈسکشن تھا۔ ڈسکشن کے خاتمے پر انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ تمام آسمانی مذاہب کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مقدس کتابوں کو پڑھیں اور اُن سے رہنمائی لیں۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ اگر وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تو وہی ان کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گا۔
ہمارے گائڈ مسٹر فلپو اس ڈسکشن میں موجود تھے۔ انھوں نے جب یہ بات سنی تو انھوں نے مذکورہ ربی سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں قرآن کا ایک ایسا ترجمہ موجود ہے جس میں بہت زیادہ وضوح (clarity) ہے۔ اگر آپ مسلمانوں کے اندر صحیح اسپرٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ انھیں اس ترجمہ قرآن کے مطالعے کا مشورہ دیں۔ اس کے بعد مسٹر فلپو نے مذکورہ ربی سے میری ملاقات کرائی۔ اور میرے دستخط کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ ان کو مطالعے کے لیے دیا۔ ان واقعات سے دورِ جدید کا ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ دورِ جدید کا ایک پہلو وہ ہے جس کو کھلاپن (openness) کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان مذہب کے معاملے میں متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) کو پسند نہیں کرتا۔ آج کے انسان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ مذہب کے معاملے میں رواداری کا طریقہ ہونا چاہیے، نہ کہ کٹرپن کا طریقہ۔ دورِ جدید کا یہ مزاج دعوتی کام کے لیے بے حد مفید ہے۔ اگر اپنی طرف سے کوئی منفی بات نہ کی جائے تو ہر جگہ اس مزاج کو دعوتِ الی اللہ کے حق میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح 17 نومبر اور 18 نومبر 2008 کو مختلف موضوعات پر الگ الگ پینل ڈسکشن جاری رہے۔ ہر ڈسکشن الگ الگ ہال میں ہوتا تھا۔ پینل ڈسکشن کے موضوعات یہ تھے : 1. Peace in the Mediterranean: Faiths, conflicts and the Challenge of Coexistence. 2. John Paul II and the Prophecy of Peace 3. Xenophobia and Philoxenia: Welcoming the Stranger 4. Has Europe's Time come? (H. C. Akamas Hall)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues