Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹
قبرص کی اس کانفرنس میں 17 نومبر 2008 کی شام کو ایک پینل ڈسکشن کا موضوع یہ تھا: Africa: Religions and Societies of Coexistence میرے ایک ساتھی نے اُس میں شرکت کی اور وہاں لوگوں کو اسلامی لٹریچر دیا۔ اس میں ہمارے یہاں کی مطبوعات میں سے خاص طور پر ایک کتاب (The True Jihad) بھی شامل تھی۔ حاضرین نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ ہمارے ساتھی کا بڑا بیگ جو لٹریچر سے بھرا ہوا تھا، وہ اس ہال میں خالی ہو گیا۔ بعد کو جب ہم لوگ یہاں سے شام کے کھانے کے لیے ہوٹل ہلٹن سائپرس کے وسیع ہال میں اکٹھا ہوئے تو ایک صاحب میرے ساتھی کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ اکامس ہال (Akamas Hall) میں جہاد کے موضوع پر ایک کتاب لوگوں کو دے رہے تھے۔ مجھے بھی اس کا ایک نسخہ چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ مسلم۔ کرسچن جہاد میں میرا دہنا ہاتھ کٹ گیا تھا، پھر انھوں نے دکھایا کہ کلائی سے لے کر انگلیوں تک ان کا پورا ہاتھ ایک مصنوعی ہاتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام میں جہاد کا تصور کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues