Al-Risala · February 2009 · page 30

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰

انھوں نے یہ بات غصہ اور نفرت کے بغیر بالکل سادہ انداز میں کہی۔ اُن کا نام یہ ہے: Dr. James Morel Wuye, Interfaith Mediation Centre, Nigeria میرے ساتھیوں نے ان کو اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کا انسان کس طرح ہر بات کو جاننا چاہتا ہے۔ وہ ذاتی شکایتوں سے اوپر اٹھ کر سچائی کی دریافت کرنا چاہتا ہے۔ جدید دور کا یہ مزاج دعوت کے کام کے لیے بے حد مفید ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مزاج کو آخری حد تک استعمال کیا جائے اور ساری دنیا میں سچائی کا پیغام پہنچا دیا جائے۔

قبرص کی اس تین روزہ کانفرنس کے دوران میرے ساتھیوں کا حال یہ تھا کہ وہ دن بھر وہاں کے لوگوں سے مل کر ان سے انٹریکشن کرتے اور اُن کو اسلامی لٹریچر پہنچاتے۔ دن بھر یہ لوگ دیوانوں کی طرح کام کرتے۔ شام کو جب یہ لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹتے تو اُن کا حال یہ ہوتا کہ وہ بالکل تھک چکے ہوتے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر درد اور تھکاوٹ سے شل ہو چکے ہوتے اور بستر پر لیٹتے ہی اُن کو نیند آجاتی، حتیٰ کہ مجھ سے بات کرنے کی بھی انھیں فرصت نہیں تھی۔ صبح کو اٹھ کر میں اور میرے ساتھی لوگوں کی ہدایت کے لیے خدا سے دعا کرتے، اور پھر اس کی پلاننگ کرتے کہ آج کے پروگرام میں کس طرح لوگوں تک دعوتی لٹریچر پہنچایا جائے۔ اس کے بعد یہ لوگ اپنے بیگ میں لٹریچر پیک کرتے۔ اور ناشتے کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے سے نکل کر کانفرنس کے مقام پر پہنچ جاتے۔ یہی روزانہ کا روٹین تھا۔ صبح ہوتے ہی لٹریچر کی پیکنگ اور پلاننگ شروع ہو جاتی۔ غالب نے اپنے زمانے کے ایک شاعر کے حال ان لفظوں میں بیان کیا ہے ـــــ ’’ہوئی صبح اور ادھر ہم کان پر رکھ کر قلم نکلے‘‘۔ میرے ساتھیوں کا حال بھی ایک لفظی فرق کے ساتھ یہی تھا: ’’ہوئی صبح اور ادھر ہم بیگ میں رکھ کر کتب‘‘ نکلے۔ قدیم زمانے کے شاعر کا یہ حال کسب معاش کے لیے ہوتا تھا۔ لیکن میرے ساتھیوں کا یہ حال اشاعت حق کے لیے تھا۔ اس معاملے کو دیکھ کر قرآن کی اس آیت کا مفہوم سمجھ میں آیا: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طوِيلًا (المزّمّل : 7) ۔ اس تجربے سے یہ سمجھ میں آیا کہ یہاں ’’سَبْح طویل‘‘ سے مراد دعوتی سرگرمی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page