Al-Risala · February 2009 · page 31

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱

ہے، یعنی دعوت وتبلیغ کی مجاہدانہ مصروفیت۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جس طرح آپ لوگ دوسرے انسانوں تک دعوتی لٹریچر پہنچانے کے لیے تیاری اور پلاننگ کرتے ہیں، صحابہ اسی طرح دعوتی مہم کے لیے تیاریاں کرتے ہوں گے۔ انسانی تاریخ پر رسول اور اصحاب رسول کا یہ عظیم ترین احسان ہے کہ انھوں نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار قلم کو تلوار کا قائم مقام بنا دیا۔ اب ایک آدمی قلم کے ذریعے دعوت الی اللہ کا وہ کام بخوبی طور پر کر سکتا ہے جس کو قدیم مذہبی جبر کے دور میں صرف تلوار کے زور پر کیا جا سکتا تھا۔

کانفرنس کی وسیع دنیا میں جب ہم لوگ داخل ہوئے تو وہاں ہر طرف انسانوں کا ہجوم تھا۔ میں نے سوچا کہ کاش، میں ان تمام انسانوں کو خدا کی رحمتوں کے سائے میں پہنچا سکتا۔ کاش، میں ان تمام لوگوں کو جنت کی ابدی دنیا میں داخل کر سکتا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ان تمام انسانوں کو ہدایت دینا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ تاہم ایک بات میرے اختیار میں ہے۔ وہ یہ کہ میں ان لوگوں کی ہدایت کے لیے تڑپوں، میں ان کی ہدایت کے لیے دردمندانہ انداز میں دعا کروں۔ میں ان کی ہدایت کے لیے خدا کے سامنے آنسو بہاؤں۔ ان حالات میں میری زبان پر بے ساختہ دعاؤں کے کلمات جاری ہوجاتے تھے۔ اے اللہ، تو مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو توفیق دے کہ ہم اس بھٹکی ہوئی دنیا کو سچائی کا پیغام دے سکیں ۔ دعا کے وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید ہم لوگوں کو اسی لیے خدا یہاں لایا ہے، تاکہ ہم اُن کو دیکھیں اور درد مندی کے ساتھ اُن کی ہدایت کے لیے دعا کر سکیں۔ وہ دعا جو آج سے چودہ سو سال پہلے قبرص کی اسی سر زمین پر اصحاب رسول نے کی تھی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت اور دعا دونوں ایک دوسرے کا لازمی حصہ ہیں۔ داعی جب انسانوں کی ہدایت کے لیے اٹھتا ہے تو ایک طرف اُس کو انسانوں کا سمندر دکھائی دیتا ہے۔ اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ ان تمام عورتوں اور مردوں کے دلوں میں حق کی آواز اتارنا اُس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے، جتنا کہ ہمالیہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے کھسکانا ۔ دوسری طرف، اس کو شدت کے ساتھ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس عظیم کام کے مقابلے میں اُس کے پاس عجز کے سوا کوئی اور سرمایہ نہیں۔ اس دو طرفہ احساس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر مدعو کے لیے دعا کا چشمہ اہل پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا کے بغیر دعوت نہیں، اور دعوت کے بغیر دعا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page