Al-Risala · February 2009 · page 33

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳

اور اپنے ساتھیوں کے لیے یہ دعا کرتا رہا کہ خدایا، ہم کو آخرت کے دن حسابِ عسیر سے بچا اور ہم سب کو حسابِ یسیر کے ساتھ جنت میں داخل کردے۔

راستے میں بار بار میں اپنے ساتھیوں سے کہتا رہا کہ یہ خصوصی اہتمام کا معاملہ جو ہمارے ساتھ پیش آرہا ہے، اس کے متعلق ہرگز یہ مت سمجھیے گا کہ یہ ہماری کسی صلاحیت کی وجہ سے ہم کو ملا ہے۔ یہ سب یک طرفہ طور پر صرف خدا کی رحمت کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات گہرے قلبی احساس کے تحت ہونا چاہیے، نہ کہ صرف زبانی طور پر بولے ہوئے الفاظ کے ذریعے ۔

18 نومبر 2008 کی شام کو اس کا نفرنس کا آخری پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام نیکوسیا شہر کے قدیم حصے میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا عنوان یہ تھا امن کے لیے دعا Prayer For Peace اس پروگرام کے تحت مختلف مذہب کے لوگوں کے لیے الگ الگ مقامات مقرر کیے گئے تھے۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے مقرر مذہبی مقام پر پہنچے اور اپنے طریقے کے مطابق عبادت کر کے وہاں امن عالم کے لیے دعا کی۔ مسیحی لوگ نیکوسیا کے بڑے چرچ میں اکٹھا ہوئے۔ کانفرنس کے مسلم شرکا مسجد عمر (Omeriye Mosque) میں اکٹھا ہوئے۔ یہ اس شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ مسجد میں میونسپل مارکیٹ (main municipal market) کے قریب والڈ سٹی (walled city) میں واقع ہے۔ ہم لوگ اجتماعی صورت میں پیدل چل کر وہاں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں مغرب کی نماز کے لیے جماعت کھڑی ہو رہی تھی۔ یہ کافی بڑی جماعت تھی۔ ہم لوگوں نے جماعت میں شریک ہو کر وہاں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ڈاکٹر فتحی عثمان نے مختصر طور پر عربی اور انگریزی میں تقریر کی اور آخر میں امن عالم کے لیے دعا کی۔

مسجد عمر ایک قدیم مسجد ہے۔ 1571 میں قبرص کے علاقے میں ترک داخل ہوئے ۔ ترکی فوج کے ایک جنرل مصطفی پاشا (وفات: 1580) نے یہاں موجودہ مسجد قائم کی۔ اس مسجد کی وجہ تسمیہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں خلیفہ عمر فاروق نے مصر جاتے ہوئے ایک رات یہاں قیام کیا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام ”مسجد عمر“ رکھا گیا۔ تاہم تاریخی اعتبار سے یہ بات غیر ثابت شدہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page