Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں لوگ تفاؤل (good omen) کے طور پر اس طرح کے نام رکھ دیتے تھے۔ غالباً اسی مزاج کی بنا پر اس مسجد کا نام مسجد عمر رکھا گیا۔
اس مسجد میں میرے ساتھیوں نے وہاں کے امام کی اجازت سے قرآن کے انگریزی ترجمے کے دو نسخے رکھے اور لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔ یہاں کئی پاکستانی نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً ایک لاکھ پاکستانی قبرص میں موجود ہیں۔ یہ لوگ یہاں جاب (job) کی تلاش میں آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ نوجوان وہ ہیں جو قبرص کی یونی ورسٹی میں پروفیشنل کورس کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ یہاں جاب بھی کرتے ہیں۔ میرے ساتھی یہاں کچھ نوجوانوں سے ملے اور ان کو انگریزی زبان میں چھپا ہوا لٹریچر دیا۔ انھوں نے ان نوجوانوں سے دعوت کے موضوع پر بات کی اور کہا کہ آپ لوگ اس ملک میں خدا کے سفیر ہیں۔ آپ یہاں دعوت کا کام کیجیے، آپ کو اس کام کے لیے جتنا لٹریچر مطلوب ہوگا، وہ لٹریچر ان شاء اللہ ہم آپ کو انڈیا سے بھیج دیں گے۔ مجھے پیشگی طور پر اندازہ نہ تھا کہ قبرص میں اتنے زیادہ مسلم تارکینِ وطن (emigrants) موجود ہوں گے۔ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانے میں دنیا کے تقریباً ہر ملک اور ہر جگہ مسلمان پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ صرف تلاشِ معاش کے جذبے کے تحت ان مقامات پر گئے ہیں۔ تلاشِ معاش اپنے آپ میں کوئی نا جائز چیز نہیں۔ لیکن مسلمان کے لیے تلاشِ معاش صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ موجودہ زمانے میں دس ملین سے زیادہ ایسے مسلمان ہیں جو اپنے ملکوں سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں گئے ہیں۔ یہ لوگ اگر ون مین ٹو مشن (one man two mission) کے اصول پر ان ملکوں میں رہیں، یعنی وہ اپنے وقت اور اپنی توانائی کا ایک حصہ دعوت کے کام میں لگائیں اور ایک حصہ کسبِ معاش کے کام میں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اُن کا یہ ترکِ وطن اُن کے لیے ایک قابلِ اجر کام بن جائے گا، بصورتِ دیگر اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اُن کا سخت محاسبہ کیا جائے، اُن سے پوچھا جائے کہ مواقعِ معاش کو جاننے کے لیے تم چیونٹیوں کی طرح ہر جگہ پہنچے، لیکن مواقعِ دعوت کو جاننے کے لیے تم اندھے اور بہرے بنے رہے۔ مسجد عمر میں دعا اور عبادت سے فارغ ہو کر تمام لوگ اپنے اپنے مذہبی مقامات سے نکلے اور
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues