Al-Risala · February 2009 · page 35

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

اجتماعی صورت میں سڑک پر پیدل چلنے لگے۔ اس سفر کی قیادت قبرص کے آرک بشپ (Chrysostomos Kykkotis) کر رہے تھے۔ اس طرح چلتے ہوئے تمام لوگ اُس مقام پر پہنچے جس کا نام یہ تھا— آرک بشپ یارڈ (Archbishopic Yard)۔ یہاں خصوصی انداز میں ایک بہت بڑا اسٹیج بنایا گیا تھا۔ اس اسٹیج پر تقریباً ڈیڑھ سو آدمی بٹھائے گئے۔ بقیہ ہجوم آگے کے میدان میں لگی ہوئی کرسیوں کے اوپر سامعین کی حیثیت سے بیٹھا ہوا تھا۔ یہاں امن کے موضوع پر تین تقریریں ہوئیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے لوگوں کو پھول پیش کئے۔ تمام مذاہب کے نمائندوں نے مل کر امن کی مشعل جلائی۔ لوگوں نے امن کے اعلامیہ (declaration) پر دستخط کیے۔ آخر میں لوگ کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے اس طرح ملے کہ اُن میں سے ہر ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا: Peace be upon you, Peace be upon you. اس کارروائی میں رات ہو چکی تھی۔ یہاں سے واپس ہو کر لوگ اجتماعی ڈنر میں شریک ہوئے۔ ڈنر کے بعد کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے صدر اور قبرص کے آرک بشپ نے تمام شرکا اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا، اس کے بعد لوگ اپنی اپنی قیام گاہوں پر چلے گئے۔

”پریئر فار پیس“ کے اس آخری پروگرام کے موقع پر بھی ہمارے ساتھیوں نے دعوت ورک کیا۔ اس پروگرام میں عالمی سطح کے بہت سے اہم مذہبی اور سیاسی اشخاص موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے اُن کو دعوتی پمفلٹ دیے۔ قبرص کے آرک بشپ کو بھی اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ 18 نومبر 2008 کو اٹلی کی ایک بڑی ٹی وی کمپنی (Mediaset) کی ٹیم نے ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر کا نام یہ تھا— ماریہ (Maria Cecilia Sangiorgi)۔ انٹرویو کے دوران انھوں نے اسلام اور عالمی حالات کے بارے میں مختلف سوالات کئے۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان سوالات کا جواب دیا۔ اُن کا آخری سوال یہ تھا کہ آج کی دنیا بہت سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں آپ ان کی طرف سے پرامید ہیں، یا ناامید۔ میں نے کہا میں ایک پرامید (optimist) شخص ہوں۔ میں ہمیشہ واقعات میں امید کے پہلو دیکھتا ہوں۔ مثلاً ابھی حال میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page