Al-Risala · February 2009 · page 36

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶

امریکہ کے الیکشن میں سابق صدر جارج بش ہار گئے، اور بلیک صدر براک او با ما جیت گئے۔ یہ میرے لیے امید کا ایک پیغام ہے۔ میں نے کہا کہ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں وائٹ پریزیڈنٹ کی جگہ ایک بلیک پریزیڈنٹ آ گیا ہے۔ یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ براک او با ما نے جیت کے بعد اپنی پہلی تقریب میں کہا تھا کہ ؀امریکہ میں تبدیلی آگئی۔ میں کہوں گا کہ دنیا میں تبدیلی آگئی: Black president replaced white president in White House. After قبرص کی اس کانفرنس میں حسب ذیل اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب خواتین نے بھی شرکت کی: Asma Benkada, Programme producer of Al-Jazeera TV, Qatar Aisha Yosuf al-Manna'i, Dean of Shariah & Islamic Studies, Qatar Khadija Benganna, Al-Jazeera TV, Qatar. ان خواتین نے کانفرنس ہال میں مجھ سے ملاقات کی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ انھوں نے میری کتاب الإسلام يتحدى پڑھی ہے، وہ اس کتاب سے بہت متاثر ہیں۔ اول الذکر خاتون اسماء، مشہور عرب عالم ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی اہلیہ ہیں۔ انھوں نے موجودہ مسائل پر مجھ سے گفتگو کی ۔ آخر الذکر خاتون خدیجہ بن قنہ نے الجزیرہ ٹی وی کے لیے "اسلام اور امن" کے موضوع پر میرا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ میرے ساتھیوں نے ان لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔ ان خواتین کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ سب نہایت ذہین خواتین ہیں اور مفید کام انجام دے رہی ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ خواتین میں غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن عام طور پر ان کی صلاحیتیں بروئے کار نہیں آتیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ روایتی ماحول کی بنا پر مردان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ عورتوں کو کار آمد بنانے کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے، اس کو عام طور پر ہمارے معاشرے کے مرد انجام نہیں دیتے۔ اپنے روایتی ذہن کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کو صرف خاتون خانہ بنانا ہے، اس کے سوا کوئی اور کام اُنھیں انجام نہیں دینا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں مسلم عورتوں کے بارے میں کہا تھا کہ:

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page