Al-Risala · February 2009 · page 38

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۸

مانند بنالیں ۔ اس بات کو سن کر وہ بہت خوش ہوئیں ۔ انھوں نے کہا کہ آج سے میں ایسا ہی کروں گی ۔ 19 نومبر 2008 کو سفر سے واپسی کا دن تھا۔ آج شام کو ہمیں واپسی کا جہاز لینا تھا۔ نمازِ ظہر سے فارغ ہو کر ہم لوگ ہوٹل سے ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارا پروگرام یہ تھا کہ پہلے ہم لوگ ہالہ سلطان جا کر ام حرام بنت ملحان کا مقبرہ دیکھیں گے اور اس کے بعد ائیر پورٹ جائیں گے۔ یہ مقبرہ ائیر پورٹ سے بہت قریب سالٹ لیک (Salt Lake) کے کنارے سمندر کے پاس واقع ہے۔ آتے ہوئے جب ہمارا جہاز لارنا کا ائیر پورٹ کے قریب پہنچا تو جہاز سے ہم نے یہ مقبرہ دیکھ لیا تھا۔ 19 نومبر 2008 کی سہ پہر کو ہم بذریعہ روڈ سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے۔ یہ مقبرہ بہت بڑے رقبے میں واقع ہے۔ ام حرام کے انتقال کے بعد اُس کو یہاں ایک سادہ قبر کے طور پر بنایا گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں یہاں ایک ترک درویش شیخ حسن آئے۔ انھوں نے 1760 میں قبر کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا۔ ترک اقتدار کے زمانے میں 1816 میں وہاں مقبرہ سے متصل ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی اور ایک بڑے رقبے میں کامپلیکس کی صورت میں کئی تعمیرات کرائی گئیں ۔

یونائی ٹِڈ نیشنِس (United Nations Development Programme) کے تحت ہالہ سلطان کی اس مسجد کو کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا بڑا مقدس مقام بتایا گیا ہے: The mosque was described by the UNDP in Cyprus as Islam's third holiest site, after the Ka'ba in Makkah and the Mosque of the Prophet in Medina. ہالہ سلطان کے کیمپس کے گیٹ پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس بورڈ پر یہ الفاظ درج تھے: This project was financed with a grant from the Bi-Communal Development Programme, which was supported by USAID and UNDP and executed by UNOPS. The works were conducted in collaboration with the Department of Antiquities (Ministry of Communications and Works). پہلے میرا خیال یہ تھا کہ یہاں صرف ایک قبر ہو گی جس کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے، مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں ایک بہت بڑا کامپلیکس بنا ہوا ہے۔ ترکوں نے اس کا نام ہالہ سلطان تکیہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page