Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹
رکھا تھا، (Hala Sultan Tekke) یعنی سلطان انبیام کی خالہ کا مقبرہ۔ کہا جاتا ہے کہ ام حرام بنت ملحان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ حلیمہ سعدیہ کی بہن تھیں۔ اس نسبت سے ام حرام، آپ کی رضاعی خالہ تھیں ۔ اس بنا پر اس علاقے کا ترکی نام ہالہ سلطان رکھا گیا۔ یہ کا مپلیکس اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر بڑے پیمانے پر ایک تعلیمی یا دعوتی ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بروقت اس کا بظاہر کوئی خاص استعمال نہیں ہے۔ یہاں مختلف ملکوں سے ٹورسٹ آتے ہیں اور دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ ہالہ سلطان پہنچ کر ہم لوگوں نے وضو کیا اور مسجد کے اندر داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی۔ یہ ایک وسیع مسجد ہے جس کے اندر عمدہ قسم کا قالین بچھا ہوا ہے۔ مسجد کے محراب کے بائیں گوشے میں ایک دروازہ کھلتا ہے۔ اس دروازے سے داخل ہو کر ہم لوگ اندر پہنچے۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ اس کمرے کے بیچ میں ام حرام کا مقبرہ ہے۔ یہ مقبرہ پتھر کی دیوار سے گھرا ہوا ہے۔ مقبرہ کی چھت سے قبر کے اوپر تک چاروں طرف ایک موٹا غلاف آویزاں ہے۔ ام حرام کی قبر ایک سبز چادر سے ڈھکی ہوئی ہے۔ قبر کے داہنے اور بائیں جانب پیتل کی موٹی جالیان ہیں۔ یہاں قبر کے چاروں طرف کشادہ گیلری ہے جس پر دبیز قالین بچھا ہوا ہے۔
ہم نے وہاں ایک مسلم نوجوان کو دیکھا۔ یہ نوجوان جرمن کا رہنے والا تھا۔ وہ آج کل قبرص میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس نے مسجد میں نماز پڑھی۔ نماز کے بعد وہ ام حرام کے مقبرے میں داخل ہوا۔ وہاں اس نے چوکھٹ پر سجدہ کیا۔ اور قبر کی جالی پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ ہمارے ساتھیوں نے اس سے گفتگو کی اور اس کو اسلامی لٹریچر دیا۔ ام حرام کے مقبرے کے باہر ایک درخت لگا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ یہ درخت دھاگوں اور سفید پٹیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے یہاں درخت پر کاغذ اور کپڑے کی پٹیاں باندھتے ہیں۔ اس قسم کی بدعتیں غالباً ترکی سے یہاں آئی ہیں۔ اگر یہاں کوئی تعلیمی یا دعوتی ادارہ قائم ہوتا تو اس قسم کی بدعتیں یہاں فروغ نہ پاتیں ۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں کی مسجد میں قرآن کا دو انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر رکھا۔ وہاں اُس وقت کئی غیر ملکی ٹورسٹ موجود تھے۔ انھوں نے ان لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues