Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
موجودہ زمانے میں جب ہم لوگوں نے ’’جماعت ثانی‘‘ کی حیثیت سے قبرص کا سفر کیا تو زمانہ بدل چکا تھا، اس لیے ہمارے ساتھ صرف چھپی ہوئی کتابوں کے بنڈل تھے۔ اس کے سوا کوئی دفاعی چیز لے جانے کی ضرورت ہم کو پیش نہیں آئی۔ ہم نے وہاں کئی دن تک مسلسل طور پر دعوتی کام کیا اور کسی نے ہمارے اوپر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ہر موقع پر وہاں کے لوگ ہم کو اپنا تعاون دیتے رہے۔ 19 نومبر 2008 کو میں قبرص میں بحر متوسط کے ساحل پر واقع اُم حرام بنت ملحان کے مقبرے کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ میں نے سوچا کہ لارنا کا کا یہ مقبرہ بھی ایک مقبرہ ہے اور آگرہ کا تاج محل بھی ایک مقبرہ ہے۔ مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ تاج محل کو تاریخ کا ایک صفحہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ ام حرام بنت ملحان صحابیہ کا یہ مقبرہ تاریخ کے ایک صفحے کی حیثیت سے نمایاں نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تاج محل کا مطالعہ تاریخ کی روشنی میں کیا جاتا ہے، جب کہ صحابیہ کا یہ مقبرہ ہماری کتابوں میں صرف ’’فضائل صحابہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues