Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳
اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے ایک بہت بڑی حقیقت میرے سامنے آئی، ایک ایسی حقیقت جس کو خود میں نے بھی پہلی بار یہاں دریافت کیا۔ یہ حقیقت اگرچہ بہت پہلے سے موجود تھی، لیکن شعوری دریافت کے طور پر وہ غالباً پہلی بار ایک انسان کی سمجھ میں آئی۔
میں نے 1984 میں حجاز کا سفر کیا تھا۔ اُس وقت مدینہ میں ڈاکٹر ضیاء الرحمن المدنی سے میری ملاقات ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء خالص علمی اعتبار سے، غیر تاریخی پیغمبر تھے۔ آپ نے لکھا ہے کہ کسی شخصیت کے تاریخی شخصیت ہونے کا علمی معیار یہ ہے کہ معاصر تاریخ میں اُس کا حوالہ موجود ہو۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی معاصر تاریخ میں آپ کا حوالہ کہاں ملتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ بعض سریانی مورخین نے آپ کے نام کے ساتھ آپ کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم اؔس وقت یہ بات پوری طرح میرے اوپر واضح نہ تھی۔ اب اچانک یہ سمجھ میں آیا کہ پیغمبر اسلام کے تمام صحابہ اور صحابیات کا معاملہ یہی تھا کہ وہ اِس معاملے میں گویا کہ معاصر مورخین تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کا موجودہ ذخیرہ اِس اعتبار سے، پورے معنوں میں ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس ریکارڈ میں پیغمبر اسلام کے ہم زمانہ افراد آپ کے بارے میں تاریخی بیانات دے رہے ہیں۔ مگر حدیث کا یہ پہلو لوگوں پر اِس لیے مخفی رہا کہ وہ حدیث کا مطالعہ ایک’’مقدس کلام‘‘ کی حیثیت سے کرتے رہے، نہ کہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت سے۔
آدمی کی یہ کم زوری ہے کہ وہ چیزوں کو اپنے ذہنی مفروضہ (pre-occupied mind) کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔ اِس ذہنی مفروضہ کی بنا پر میں حدیث کے اِس پہلو کو شعوری طور پر نہ جان سکا کہ وہ پیغمبر اسلام کی شخصیت کا ایک معتبر تاریخی ریکارڈ ہے اور تمام صحابہ اس معاملہ میں گویا "راویان تاریخ" کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دریافت میرے لیے ایک عظیم دریافت تھی۔ کیوں کہ اس سے خالص علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے تاریخی پیغمبر ہیں جن کا حوالہ آپ کے معاصر مورخین نے بڑے پیمانے پر دیا ہے، اور ان تمام مورخین کے تاریخی حالات اسماء الرجال کی کتابوں میں مستند طور پر پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues