Al-Risala · February 2009 · page 45

Prayer as a Source of Peace.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۵

یہ معلوم نہیں کہ ”منی بزنس“ سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز ہے جس کو اُنھیں حاصل کرنا چاہیے۔ یہ زیادہ بڑی چیز ذہنی اور روحانی ارتقا ہے۔ اس ارتقا کا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی آس پاس کی دنیا پر غور کرے، وہ کتابوں کا مطالعہ کرے، وہ لوگوں سے علمی اور فکری موضوعات پر تبادلہ خیال کرے، وغیرہ۔ دبئی ایئر پورٹ کے لاؤنج (lounge) میں ہم لوگوں کو آتے ہوئے اور جاتے ہوئے، دونوں بار کچھ گھنٹے کے لیے ٹھہرنا پڑا۔ یہاں لاؤنج کے ایک حصے میں ایک ڈسک (desk) تھا، جس میں اخبارات اور جرائد برائے مطالعہ رکھے ہوئے تھے۔ ایک عربی جریدے میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون دکتور خالد النجار کا لکھا ہوا تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا ـــ امیر البیان شکیب أرسلان: جندي ذو ثلاثة أهداف (امیر شکیب ارسلان: ایک مسلم سپاہی جن کی جدوجہد کے تین نشانے تھے)۔ امیر شکیب ارسلان کی جدوجہد کے یہ تین نشانے مضمون کے مطابق، حسب ذیل تھے : الاتحاد، التحرّر، السير فى موكب النهضة والعلم، یعنی مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد، مغربی استعمار سے آزادی، علم اور ترقی کے سفر میں قافلہ انسانی کے ساتھ چلنا۔ امیر شکیب ارسلان 1869 میں لبنان میں پیدا ہوئے، اور 1946 میں بیروت میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ نہایت باصلاحیت آدمی تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے جب پہلی بار اُن کو دیکھا تو اُن کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: أنا أهنئ أرض الإسلام التي أنبتتك (میں اس سرزمینِ اسلام کو مبارک باد دیتا ہوں جس نے تمھارے جیسے انسان کو پیدا کیا)۔ امیر شکیب ارسلان، عربی کے علاوہ انگریزی اور فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ انھوں نے بہت سے ملکوں کے سفر کیے۔ اُن کو اپنے زمانے کی بڑی بڑی شخصیتوں سے استفادے کا موقع ملا۔ مثلاً شیخ محمد عبدہ، سعد زغلول، احمد زکی پاشا، سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ امیرشکیب ارسلان بہت زیادہ مشغول رہتے تھے۔ وہ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ استعمال کرتے تھے۔ انھوں نے کثرت سے مطالعہ کیا۔ انھوں نے بہت سے مقالات کے علاوہ تقریباً پچاس کتابیں لکھیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ امیر شکیب ارسلان کوئی بڑا کام نہ کر سکے۔ مثلاً جدید فکری تحدیات کے مقابلے میں کوئی مؤثر کتاب تیار کرنا، جدید ضرورتوں کے مطابق، کوئی ایسا ادارہ قائم کرنا جو اُن کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page