No victors, only survivors
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۹
مزید اضافے کے ساتھ ممکن ہو گئی ہے۔ فارسی کا مذکورہ شعر یہ ہے:
منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت، خیمہ زد و بارگاہ ساخت اس موقع پر لاؤنج میں بیٹھ کر جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں نے ریڈیو کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی لیڈر نے روزے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزہ رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میں نے کہا کہ مشکل (difficult) ایک اضافی لفظ ہے۔ ہر چیز مشکل بھی ہوتی ہے اور آسان بھی۔ یہ آپ کا اپنا ذہن ہے جو کسی چیز کو مشکل سمجھتا ہے اور کسی چیز کو آسان۔ لاؤنج میں ہر طرف لوگ شان دار طور پر چلتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خصوصی مخلوق ہے۔ اس کی ہر چیز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں ایک جنتی وجود ہے۔ خدا نے انسان کو اصلاً جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ایسی حالت میں اگر وہ جہنمی راستے پر چلتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب (choice) ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کا اصل مقام جنت ہے۔ جہنم خود انسان کا اپنا چوائس ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ ایک عام بات ہے کہ لوگوں کو اپنے کارکنوں یا ساتھیوں سے شکایت رہتی ہے۔ ہر ادارے میں، ہر کمپنی میں، حتیٰ کہ ہر گھر میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ ذہن ہے۔ ہم کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں ہم کو صرف اضافی اعتبار سے بہتر شخص مل سکتا ہے، نہ کہ معیاری اعتبار سے:
We can find only a relatively better person, and not an ideally better person. اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کچھ ملے تو اس کا اعتراف کرنا بہت بڑی نیکی ہے، خواہ یہ ملنا فکری اعتبار سے ہو یا مادی اعتبار سے۔ مگر بہت کم انسان ہیں جو اعتراف کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues