Al-Risala · January 2010 · page 8

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۸

وزن کم کیا۔ اس طرح کے واقعات پورے سفر میں پیش آتے رہے جن کا ذکر ان شاء اللہ اس سفرنامے کے دوسرے مقامات پر آئے گا۔

ہمارے ساتھیوں کے بیگ میں دعوتی لٹریچر موجود تھا۔ چناں چہ انہوں نے ایئر پورٹ ہی سے اُسے لوگوں کو دینا شروع کر دیا۔ ایئر پورٹ کے عملہ کی ایک خاتون کو ریلیٹی آف لائف‘ کی ایک کاپی دی گئی۔ بھیڑ کی وجہ سے خاتون نے عجلت کے ساتھ پمفلٹ لے کر رکھ لیا۔ ہم لوگ پمفلٹ دے کر امیگریشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ خاتون تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی ہماری طرف آ رہی ہے۔ اس نے قریب آ کر کہا کہ ۔ آپ کے اس خوب صورت پمفلٹ کے لیے آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ :

Thank you very much for this beautiful pamphlet!

”تھینک یو‘‘ کہنا جدید کلچر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی آدمی اگر تھینک یو نہ کہے تو جدید معیار کے مطابق، اُس کو پس ماندہ شخص کہا جائے گا۔ اگر آپ کسی کو ایک ایسی کتاب دیں جو اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتی ہو تو جدید مذہب کے مطابق ، اُس آدمی کا فرض ہے کہ وہ آپ کو تھینک یو کہے، خواہ وہ اس سے اتفاق رکھتا ہو یا اختلاف۔ یہ ایک نیا دعوتی امکان ہے جو موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں پیدا ہوا ہے۔

ایئر پورٹ کے رسمی مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔ یہاں اوپر کی منزل میں شان دار لاؤنج (lounge) موجود تھا۔ یہاں آرام دہ نشست گاہوں کے درمیان کھانے پینے کی مختلف چیزیں موجود تھیں ۔ ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹہ یہاں بیٹھے۔

دہلی سے زیورک (Zurich) کے لیے ہماری فلائٹ رات کو ڈیڑھ بجے تھی ۔ یہاں میرے ساتھیوں نے عملہ کے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا اور پھر لاؤنج کے ایک حصے میں بیٹھ کر ہم لوگ مختلف موضوعات پر ڈسکشن کرتے رہے۔ یہاں مجھے فارسی شاعر کا ایک شعر یاد آیا۔ میں نے سوچا کہ فارسی شاعر نے جو بات اپنے زمانے کی نسبت سے کہی تھی، وہ موجودہ زمانے میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page