Al-Risala · January 2010 · page 10

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰

اس عام بے اعترافی کا سبب کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی إنما أوتيته على علم عندي (القصص : 78) کی نفسیات میں جیتا ہے، یعنی جو کچھ آدمی کو ملتا ہے، اس کو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر خود اپنا کارنامہ سمجھ لیتا ہے، نہ کہ کسی اور سے ملا ہوا عطیہ۔ وہ دوسرے کے کنٹری بیوشن (contribution) کو بھلا دیتا ہے اور جو کچھ اس کو ملتا ہے، وہ خود اس کو اپنے کھانے میں ڈال لیتا ہے۔ دہلی ایئرپورٹ پر جب ہم لوگ آخری چیکنگ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک علاحدہ کیبن بنا ہوا تھا۔ میرے بقیہ ساتھی تو سادہ طور پر گزر گئے، لیکن مجھ سے اُس کیبن میں جانے کے لیے کہا گیا۔ یہ کیبن اسکریننگ (screening) کے لیے تھا۔ اس علاحدہ کیبن میں میری جانچ کی گئی۔ اس امتیازی جانچ کو میں نے ایک نارمل چیز سمجھا۔ مطالبے کے بغیر میں نے اسکریننگ کے لیے اپنا جوتا بھی اتار دیا اور پھر ٹھیک یو کہتے ہوئے باہر آ گیا۔ میرے ایک ساتھی فوراً آگے بڑھے اور اُس آدمی کو قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی پیش کی جس کو اس نے خوشی کے ساتھ قبول کر لیا۔ یہی سادہ واقعہ ہے جو انڈیا کے بعض وی آئی پی (VIP) افراد کے ساتھ پیش آیا تو انڈیا میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔ یہ ہنگامہ بلا شبہ سرتا سر لغو تھا۔ اس طرح کی چیزیں ہمیشہ روٹین کے طور پر ہوتی ہیں۔ اُن کو ہمیشہ معتدل انداز میں لینا چاہیے۔

نفرت اور کشیدگی اور تشدد کے واقعات ہمیشہ اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ کسی سے ایک منفی بات سنتے ہیں اور اس کو ویسا ہی مان لیتے ہیں، جیسا کہ کہنے والے نے کہا تھا۔ مگر یہ ایک شدید قسم کی غلطی ہے۔ اس طرح کے واقعات کو جب بھی کوئی شخص بیان کرتا ہے تو وہ اصل واقعہ (actual event) کو نہیں بیان کرتا، بلکہ وہ اپنے ذاتی احساس (personal feeling) کو بیان کرتا ہے۔ لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے، اس لیے وہ نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

سننے والا اگر ایسا کرے کہ وہ اصل واقعہ اور رپورٹ کرنے والے کے ذاتی احساس میں فرق کر کے دیکھے تو وہ منفی رد عمل کا شکار نہ ہو۔ کیوں کہ رپورٹ کرنے والا کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ اپنے احساس کو الگ رکھ کر صرف اصل واقعہ کو بیان کرے۔ یہ غلطی یکساں طور پر شخصی رپورٹ میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page