Al-Risala · March 2010 · page 8

World over, 1 in 4 persons is a Muslim.

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۸

بات کہی گئی ہے، بظاہر وہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانی جذبات کا اظہار ہے۔ وہ علمِ الہی کا بیان نہیں، بلکہ وہ بندہ مومن کا احساس ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کائنات میں تدبر کر کے آلاءِ خداوندی کو اس طرح دریافت کرے کہ واقعۃً اس کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تمام درختوں کے قلم اور تمام سمندروں کی سیاہی بھی اس کے جذبات کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ سفر کے دوران میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا، بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ اس تجربے سے میرے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہوا، وہ یہ کہ تمام لوگ خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہو چکے ہیں۔ ہر مذہبی گروہ نے ایسے فلسفے گھڑ لیے ہیں جس میں سب کچھ ہے، لیکن خدا کی پکڑ (accountability) کا ذکر اس کے اندر موجود نہیں۔ پنرجنم کے فلسفے نے ہندوؤں کو بے خوف کر دیا، کفّارے کے عقیدے نے عیسائیوں کو بے خوف کر دیا، شفاعت کے عقیدے نے مسلمانوں کو بے خوف کر دیا، منتخب گروہ (chosen people) کے عقیدے نے یہود کو بے خوف کر دیا، شیطان کا سب سے بڑا حربہ اسی قسم کے مغالطہ آمیز عقائد اور فلسفے ہیں۔ اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ غسل (bath) کو مسلمان عام طور پر صرف طہارت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ غسل، نظافت (cleanness) کا ایک حصہ ہے۔ ایک بار میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں کی ایک مجلس میں شریک تھا۔ گفتگو کے دوران ایک ہندو نے کہا کہ مسلمان تو صرف جمعہ نہاتے ہیں۔ مسلمانوں کے یہاں صفائی کا کوئی تصور نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات آج کل کے مسلمانوں کے بارے میں درست ہوسکتی ہے، مگر یہ بات دورِ اول کے مسلمانوں کے بارے میں درست نہیں۔ میں نے کہا، خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان کے ایک خادم اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ: کان يغتسل کل يوم مرّة أو مرّتين (وہ ہر دن ایک بار یا دو بار غسل کرتے تھے)۔ اس کو سن کر سارے ہندو بہت خوش ہوگئے ۔ حاضرین میں سے ایک سوامی چیدانند (رشی کیش) نے کہا کہ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ اسلام میں اتنی اچھی اچھی باتیں ہیں ۔ آپ ہم کو اسلام ان ڈیلی لائف (Islam in Daily Life) کے موضوع پر تین سوصفحات کی ایک کتاب تیار کر کے دیجیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page