Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰
جہاز کے اندر مختلف قسم کے میگزین اور اخبار مطالعے کے لیے موجود تھے۔ ان میں مختلف قسم کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ آئے ـــ خدایا، تو نے کچھ لوگوں کو انسان قوی بنایا اور کچھ لوگوں کو انسان ضعیف۔ جو انسان قوی تھا، وہ ”رَبِّي أَكْرَمَنِ“ کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔ جو انسان ضعیف تھا، وہ ”رَبِّي أَهَانَنِ“ کی نفسیات میں جینے لگا۔ قوت اور ضعف دونوں امتحان کی حالتیں تھیں، لیکن قوی اور ضعیف دونوں قسم کے انسان اپنے امتحان میں فیل ہوگئے ۔ دونوں کا یہ حال ہوا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر زندگی گزارتے رہے، اور آخر کار وہ مرکر اس دنیا سے چلے گئے۔ جہاز کے اندر نیویارک ٹائمس کے گلوبل ایڈیشن کا شمارہ 18-17 اکتوبر 2009 دیکھا۔ اس شمارے میں ایک امریکی جزلسٹ ڈیسٹر فلکنَس (Dexter Filkins) کا لکھا ہوا انٹرویو چھپا تھا۔ یہ انٹرویو انھوں نے افغانستان میں مقیم امریکا کے فوجی افسر جنرل میک کرسٹل (Mc Chriystal) سے لیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت افغانستان میں امریکا کے 65,000 فوجی موجود ہیں۔ مگر جنرل میک کرسٹل نے مزید 40,000 فوجیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ انٹرویو میں امریکا کے مذکورہ فوجی افسر نے اپنی کسی کامیابی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ البتہ آخر میں انھوں نے عراق کی حالیہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ـــ عراق کا ایک سبق یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی حال میں اپنا اعتماد نہیں کھونا چاہیے: One of the big takeaways from Iraq was that, you have to not lose confidence in what you are doing. (p. 4)
دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہمیں مایوسی میں بھی امید پر قائم رہنا چاہیے۔ عجیب بات ہے کہ اس سے پہلے سوویت روس نے افغانستان میں فوجی اقدام کر کے اپنے سپر پاور ہونے کی حیثیت کو کھودیا تھا۔ اب امریکا اسی علاقے میں فوجی اقدام کر کے دوبارہ اُسی انجام سے دوچار ہورہا ہے۔ شاید تاریخ کا سب سے زیادہ انوکھا سبق یہ ہے کہ کسی نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔
فلائٹ کے اندر دوحہ (قطر) سے نکلنے والا ایک اور اخبار (The Peninsula) کا شمارہ 19 اکتوبر 2009 موجود تھا۔ اس کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا:
Vodafone Qatar Celebrates Diwali
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues