Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱
خبر میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی نے دوحہ کے ایک رزارٹ (Sealine Beach Resort) میں دیوالی کا تہوار منایا۔ اس رزارٹ کو انڈیا کے انداز میں سجایا گیا اور اس کا نام لٹل انڈیا (Little India) رکھ دیا گیا۔ کمپنی نے دو ہزار دیوالی گفٹ باکس، برلا پبلک سکول کے بچوں کو دیا، اور چھ ہزار دیوالی گفٹ باکس وہاں کے سوق ایریا میں کام کرنے والوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس موقع پر کمپنی نے اعلان کیا کہ:
Vodafone aims to ‘make a world of difference for all people in Qatar’ قطر ایک مسلم ملک ہے، لیکن وہاں پچاس فی صد سے زیادہ غیر ملکی آباد ہیں۔ یہ لوگ قطر میں اپنے تہوار مناتے رہتے ہیں۔ یہ جدید گلوبلائزیشن کا ایک ظاہر ہے۔ مسلم مبصرین عام طور پر اس ظاہر ے کو منفی معنوں میں لیتے ہیں، لیکن اس ظاہر ے کا ایک عظیم مثبت پہلو ہے، اور وہ دعوت کا پہلو ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبلائزیشن کی وجہ سے ایسا ہوا ہے کہ مدعو خود داعی کے پاس پہنچ گیا ہے۔ اس لحاظ سے، گلوبلائزیشن بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے۔
اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ زندگی کی کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے، کچھ ناخوش گوار چیزوں کو آخری حد تک برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ قانون فطرت کے مطابق، اُن کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً ترکی کی عثمانی خلافت 1929 ختم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، تقسیم کے بعد 1947 میں پاکستان نے کشمیر کو کھو دیا تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1948 میں فلسطین کی تقسیم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1992 میں بابری مسجد ڈھادی گئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، وغیرہ۔ مگر ہمارے رہنما ان واقعات کو برداشت کے خانے میں نہ ڈال سکے۔ اس کے نتیجہ میں مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
تقریباً تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دوحہ (قطر) کے ائیر پورٹ پر اترا۔ مجھے چوں کہ ویل چیئر استعمال کر کے باہر جانا تھا، اس لیے مجھ سے کہا گیا کہ آپ سیٹ پر بیٹھے رہیں۔ اس کے بعد ہوائی جہاز کا ایک مخصوص دروازہ کھولا گیا۔ اس دروازے کے پاس وہ گاڑی لائی گئی جس کو ہائی لفٹ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues