No victors, only survivors
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱
بھی پائی جاتی ہے اور میڈیا کی رپورٹ میں بھی۔
ایئرپورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ سوئس انٹرنیشنل ائرویز (Swiss International Airways) کی فلائٹ نمبر 147 LX تھی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سواری کے ذریعے سفر کرنا انسان کی ایک امتیازی صفت ہے (الإسراء : 70)۔ انسان نے پہلے حیوان کی پیٹھ پر بیٹھ کر سفر کرنا سیکھا، پھر اس نے پہیہ (wheel) ایجاد کی اور وہ پہیہ دار گاڑی پر بیٹھ کر سفر کرنے لگا، پھر اس نے کشتیاں بنائیں، تاکہ وہ دریاؤں اور سمندروں کی سطح پر سفر کر سکے، پھر اس نے موٹر کار اور ہوائی جہاز جیسی سواریاں ایجاد کیں۔
قدیم کہانیوں میں ”اڑن کھٹولہ“ کا ذکر ہوتا تھا۔ مگر اُس زمانے میں اڑن کھٹولہ محض ایک خیالی چیز تھی، اس کا کوئی واقعی وجود نہ تھا۔ امریکا کے دو انجینئر جن کو رائٹ بردرس (Wright Brothers) کہا جاتا ہے، انھوں نے لمبی کوشش کے بعد 1903 میں پہلا ہوائی جہاز بنایا۔ وہ اُس پر بیٹھ کر ہوا میں اڑے ۔ اِس طرح انھوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ہوائی سواری کے ذریعے فضا میں پرواز کر سکے— ہوائی جہاز خدا کی نسبت سے ایک غیر معمولی معجزہ ہے، اور انسان کی نسبت سے خدا کی دی ہوئی عقل کا غیر معمولی استعمال۔
دہلی سے روانگی کے بعد ہماری اگلی منزل زیورک تھی۔ زیورک سوئٹزرلینڈ کا ایک شہر ہے۔ دہلی سے زیورک کی مسافت 6155 کلومیٹر تھی۔ دہلی سے زیورک کا سفر 8 گھنٹے میں طے ہوا۔ سفر کے دوران مختلف اخبارات دیکھے۔ نیویارک ٹائمس (5 ستمبر 2009) کے گلوبل ایڈیشن کے صفحہ 3 پر ایک خبر تھی۔ یہ خبر چین کے مغربی صوبہ سنگیا نگ (xinjiang) کے بارے میں تھی۔ چین کے اس علاقے میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں ۔ یہ لوگ زیادہ تر ترکی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس علاقے کے مسلم لیڈر عرصے سے یہ تحریک چلا رہے ہیں کہ اس کو بقیہ چین سے الگ کر کے ایک آزاد مسلم ریاست کا درجہ دیا جائے ۔
علیحدگی پسندی کی اس سیاست کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جاتا ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues