Al-Risala · March 2010 · page 12

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲

(highlift) کہا جاتا ہے۔ ہائی لفٹ اوپر اٹھ کر ہوائی جہاز کے دروازے کے برابر آگئی۔ میں ہوائی جہاز سے نکل کر اس کے اندر داخل ہو گیا اور وہیل چیئر پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد ہائی لفٹ نیچے آئی اور وہاں سے روانہ ہو کر ائر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچی۔ یہ منسٹری لاؤنج (ministry lounge) تھا۔ وہ اپنے آپ میں ایک چھوٹے محل کے مانند تھا۔ یہاں ہم لوگوں کو آرام دہ نشستوں پر بٹھا دیا گیا۔ ائر پورٹ کی بقیہ کارروائی اسٹاف کے لوگوں نے انجام دی۔ ائر پورٹ پر ہم لوگوں کو سیو کرنے کے لیے کانفرنس کے لوگوں کے علاوہ، مولانا عبد الباسط عمری اپنے ساتھیوں کے ہم راہ موجود تھے۔ ائر پورٹ سے بذریعہ کار روانہ ہو کر ہم لوگ ہوٹل شیریٹن (Sheraton) پہنچے۔ یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا ہوٹل ہے۔ وہ یہاں کا ٹاپ کا ہوٹل سمجھا جاتا ہے۔

ہوٹل پہنچنے کے بعد پہلے مجھ کو رسیپشن (reception) کے ایک حصے میں بٹھا دیا گیا۔ یہ ہوٹل شاہی محل کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ وہاں بیٹھتے ہی خصوصی تواضع شروع ہو گئی۔ اس منظر کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے— خدایا، تجھ سے میں نے اپنے عجز کی تلافی کی دعا کی تھی۔ تو نے اکرام کے درجے میں میرے ساتھ معاملہ فرمایا۔

رسیپشن کی ضروری کارروائی کے بعد ہم لوگ ہوٹل کی پانچویں منزل پر واقع تین کمروں میں پہنچادیئے گئے۔ دو عام کمرے اور ایک سوئٹ (Suite 512)۔ میں نے سوئٹ میں داخل ہوتے ہی فوراً اے سی بند کروادیہ۔ یہ ہوٹل بحر عرب کے کنارے بنایا گیا ہے اور سوئٹ بحر عرب کے بالکل کنارے واقع تھا۔ سوئٹ کی بالکنی میں بیٹھ کر دور تک سمندر کے مناظر دکھائی دیتے تھے۔ ہوٹل میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ٹینشن کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ ٹینشن ایک غیر فطری چیز ہے۔ ٹینشن فری لائف کا واحد فارمولا یہ ہے کہ آدمی ٹینشن کے ساتھ جینے کا آرٹ جان لے، وہ نا قابلِ اصلاح مسائل کے ساتھ موافقت کا راز سیکھ لے، وہ ٹینشن کو زندگی کے ایک مثبت حصے کے طور پر دریافت کرلے۔ ایسا کرنے کے بعد اُس کا ٹینشن ٹینشن نہ رہے گا، بلکہ وہ نارمل لائف کا ایک فطری حصہ بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page