Al-Risala · March 2010 · page 13

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳

ہوٹل میں کچھ اہلِ علم حضرات سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونهم، ثم الذین یلونهم (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبی) اس حدیث کے مطابق، اسلام کی تاریخ میں تین أدوار مستند ادوار کی حیثیت رکھتے ہیں—دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ ان تین ادوار (periods) کو ”قرون مشہود لہا بالخیر“ کہا جاتا ہے، یعنی وہ دور جن کے بر سرِ خیر ہونے کی گواہی دی گئی ہے۔ اس معیار کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ تمام شخصیتیں جن کو بعد کے مسلمانوں نے اکابر کا درجہ دے دیا، وہ سب کے سب غیر اکابر تھے۔ کیوں کہ وہ قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد آنے والے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق ، صرف رسول، اصحابِ رسول اور تابعین، امت میں اکابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعد کے تمام لوگ، امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق، هم رجال و نحن رجال کا مصداق ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھتے تو ”اکابر“ کا تصور امت میں ایک تباہ کن بدعت نظر آئے گا۔ کیوں کہ اس تصور کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ غیر معیاری انسان معیار کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں، قابلِ تنقید انسان، تنقید سے بالا تر قرار پاجاتے ہیں۔

کوئی شخص اگر یہ کہے کہ ختمِ نبوت کے بعد بھی کوئی نبی آسکتا ہے تو تمام علماء اس کی تکفیر و تضلیل میں سرگرم ہوجاتے ہیں، مگر جن لوگوں نے حدیث میں مذکورہ تین مستند ادوار کے بعد ایک نئے مستند دور (دور اکابر) کا اضافہ کیا، اُن کے خلاف بولنے والا کوئی نہیں۔

20 اکتوبر 2009 کی شام کو عشاء کے بعد قطر میں مقیم علماء تقریباً ایک درجن کی تعداد میں میرے کمرے میں اکٹھا ہوئے۔ یہ سب عمری علماء تھے، یعنی جامعہ دار السلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے فارغین۔ قطر میں تقریباً ڈیڑھ سو کی تعداد میں عمری علماء موجود ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی ایک باقاعدہ تنظیم قائم ہے۔ ہر عمری عالم ہر ماہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنی تنظیم کو دیتا ہے۔ یہ رقم دینی اور دعوتی ضرورت کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔ یہاں ان عمری حضرات کا ماہانہ اجتماع ہوتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ ہر ایک پابندی کے ساتھ اور رضا کارانہ طور پر اپنی ذمے داری کو ادا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page