Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴
کرتا ہے۔ ان کے درمیان مکمل اتحاد ہے۔ مختلف مدارس کے فارغین بڑی تعداد میں مختلف ملکوں میں رہتے ہیں، لیکن میرے علم کے مطابق، کہیں بھی ان کے درمیان اس قسم کا اتحاد موجود نہیں۔ ان حضرات سے دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیات عصریہ ہے، یعنی جدید فکری چیلنج کے مقابلے میں اسلام کے نقطۂ نظر کی جدید علمی سطح پر وضاحت۔ اسی بنا پر مصر کے ایک عالم نے میری کتاب ”الإسلام يتحدّی“ کا سب ٹائٹل (sub title) ان الفاظ میں مقرر کیا تھا: مدخل علمي إلى الإيمان۔ گفتگو کے دوران ایک عمری عالم نے کہا کہ آپ صبر اور ایڈجسٹمنٹ کی بات بہت زیادہ کرتے ہیں، آخر کب تک ایسا کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ صبر اور ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کی اہمیت تو آپ خود اپنے تجربے سے سمجھ سکتے ہیں۔ آپ یہاں ایک خلیجی ملک میں ہیں۔ یہاں یقینی طور پر آپ کے لیے ایسے مسائل ہوں گے جن کو آپ پسند نہ کرتے ہوں، لیکن آپ ان کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے یہاں رہ رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ جانتے ہیں کہ ایڈجسٹ کرنے میں آپ کو فائدہ ہے۔ اپنے اسی تجربے کی بنا پر آپ میرے نقطۂ نظر کی اہمیت سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایڈجسٹ مینٹ ایک عمومی فطری اصول ہے۔ یہ اصول جس طرح آپ کے لیے مفید ہے، اسی طرح وہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے مفید ہے۔
میں نے کہا کہ عرب ملکوں میں باہر کے جو مسلمان رہتے ہیں، وہ عملاً یہاں سیکنڈ کلاس کے شہری (second class citizen) بن کر رہتے ہیں، جب کہ یہی مسلمان ہندوستان میں یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم کو سیکنڈ کلاس شہری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ حالاں کہ میرے تجربے کے مطابق، یہ بات عرب ملکوں کے بارے میں تو ضرور صحیح ہے، مگر وہ ہندوستان کے بارے میں یقینی طور پر درست نہیں۔ مثال کے طور پر میں ہندوستان میں مہاتما گاندھی اور یہاں کے دوسرے ہندو لیڈروں پر تنقید کرتا ہوں۔ میری یہ تنقید یہاں کے ہندی اور انگریزی اخباروں میں چھپتی ہے، لیکن اس بنا پر یہاں میرے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، جب کہ اگر کوئی شخص عرب ملکوں میں وہاں کے سربراہِ سلطنت پر تنقید کرے تو وہاں اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues