Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰
آئے۔ انہوں نے اس کو بوسہ دیا، پھر انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھ کو ہرگز بوسہ نہ دیتا۔
حضرت عمر فاروق کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ حجر اسود کوئی پر اسرار پتھر نہیں۔ اس کے ساتھ یہ عقیدہ وابستہ نہیں کہ وہ کوئی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے، جیسا کہ بتوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ وہ صرف آغاز طواف کا ایک نشان ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اب یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا بوسہ کیوں دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ حجر اسود پیغمبر ابراہیم کی ایک یادگار (momento) ہے، وہ ایک عظیم پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینا دراصل پیغمبر ابراہیم کے لیے اپنے جذبات محبت کا اظہار ہے، نہ کہ کسی بت کے لیے جذبات پرستش کا اظہار۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی کوئی چیز ملے تو آدمی اس کو لے کر مختلف طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، وہ کبھی اس کو چومتا ہے، کبھی اس کو اپنے سر پر رکھتا ہے، کبھی اس کو اپنے سینے سے لگاتا ہے، حجر اسود کو بوسہ دینا اسی طرح حضرت ابراہیم کے لیے اپنے جذبات محبت کا اظہار ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
قطر کے زمانہ قیام میں مجھے ہر قسم کی سہولیات (facilities) اعلیٰ معیار پر حاصل تھیں، مگر ایک لمحہ کے لیے وہاں مجھے سکون حاصل نہ تھا۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ میرے جیسے انسان کو سکون صرف مادی سامان سے حاصل نہیں ہو سکتا، میرے جیسے انسان کو سکون فکری خوراک سے ہوتا ہے اور وہ یہاں مجھے حاصل نہ تھی۔ عربوں کا معاملہ یہ ہے کہ اُن سے صرف رسمی انداز کی بات ہو سکتی تھی۔ عربوں کے ساتھ اعلیٰ نوعیت کا فکری تبادلہ خیال ممکن نہیں تھا، اور دوسرے ملکوں کے جو لوگ قطر میں آباد ہیں، اُن کا واحد کنسَرن پیسہ کمانا ہے۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا خلایہ ہے کہ یہاں فکری آزادی نہیں پائی جاتی۔ فکری آزادی ہی سے علمی ترقی ہوتی ہے۔ جہاں لوگوں کو فکری آزادی حاصل نہ ہو، وہاں کبھی علمی ارتقاء کا ماحول نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues