Al-Risala · March 2010 · page 21

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

قطر میں جو ہندوستانی ہیں، ان میں زیادہ تر کیرلا کے لوگ ہیں۔ ان میں مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔ یہ اتفاقی بات نہیں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کیرلا کے لوگ، بلکہ ساؤتھ انڈیا کے لوگ، ہر جگہ آسانی سے قابل قبول بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے اندر پروفیشنل ازم (professionalism) ہوتا ہے۔ پروفیشنل ازم کا مطلب سادہ لفظوں میں یہ ہے کہ اپنے کام سے کام رکھنا۔ شمالی ہند کے لوگوں کا مزاج سیاسی ہوتا ہے۔ وہ بہت جلد اپنی سیاست شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جنوبی ہند کے لوگوں کا مزاج ”اپنے کام سے کام“ والا ہوتا ہے۔ ان کی اس صفت نے اُن کو ہر جگہ مقبول بنا دیا ہے۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ اسرائیل کے بارے میں صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں پر تشدد کرتا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اس کے سوا کوئی اور بات آپ نہیں جانتے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو اس معاملے میں عدل سے کام لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل یک طرفہ طور پر تشدد نہیں کرتا۔ فلسطینی اُن کو پتھر مارتے ہیں تو اسرائیل اس کے جواب میں اُن کو بم مارتا ہے۔ یہ دو طرفہ معاملہ ہے، نہ کہ یک طرفہ معاملہ۔ مگر عربوں کو یا مسلمانوں کو اسرائیل میں پیش آنے والے اس واقعے کی کوئی خبر نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم میڈیا میں اس کا کوئی چرچا نہیں ہوتا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلاف کا لٹریچر ہمارے لیے کافی ہے، ہم کو مزید لٹریچر کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غیر عملی بات ہے۔ خود ایسا کہنے والے بھی اس پر عمل نہیں کر سکتے۔

میں نے کہا کہ اسلاف کی کتابوں کے دو حصے ہیں — ایک، وہ جو نماز روزہ جیسی عبادات سے متعلق ہیں۔ دوسرے، وہ جو ملی پالیسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نماز روزہ جیسی عبادات کے معاملے میں آپ اسلاف کی پیروی کر سکتے ہیں، کیوں کہ یہ مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہیں۔ لیکن جہاں تک اُن باتوں کا تعلق ہے جن کو ملی پالیسی کہا جاتا ہے، ان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ان میں حالات زمانہ کی رعایت بہت ضروری ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملی پالیسی والا شعبہ اُس مشہور فقہی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page