Al-Risala · January 2010 · page 12

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲

قسم کی علیحدگی پسند تحریکیں مختلف ملکوں میں چل رہی ہیں۔ مثلاً برما اور فلپائن، وغیرہ۔ مگر ان تحریکوں کا نتیجہ صرف مزید تباہی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ’’پاکستانیزیشن‘‘اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک قسم کی سیاسی خودکشی (political Suicide)ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ دنیا کے تقریباً تمام مسلم رہنما اس میں شریک ہیں، کچھ لوگ عملاً اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ لفظی طور پر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

جہاز کے اندر مختلف مسافروں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور لٹریچر دے دیا گیا۔ اُن میں سے ایک ڈاکٹر لوزیوز (Luzius Wasescha)تھے۔ وہ اگر چہ خدا اور مذہب کے بارے میں لبرل تھے، لیکن انھوں نے شکریہ کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ لے لیا۔ وہ سوئزر لینڈ کے رہنے والے تھے۔ مولانا محمد ذکوان ندوی کو انھوں نے اپنا جو زٹنگ کا رڈ دیا، اُس پر یہ الفاظ درج تھے: Ambassador Permanent Repersentative of Switzerland Switzerland Deputy director general, Federal Office of Foreign Economic Affairs, Ministry of Economy, Berm. In charge of coordination of WTO affairs in Switzerland, negotiations between Switzerland and the European Union, and coordination of Swiss governmental information policy in the field of biotechnology. Head of the Swiss Delegation in several WTO forums, and the conference of the European Energy Charta Treaty. یہ رات کا وقت تھا۔ اس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔ یہ سفر بظاہر لمبا تھا، لیکن نیند کی وجہ سے وہ آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ ہمارا جہاز 40 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ اوپر ستارے جگ مگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے اور نیچے سیاہ بادل تھے جن کے درمیان بجلی چمک رہی تھی۔ اُس وقت ہم بادلوں کے اوپر تھے اور آسمان کے نیچے ۔

یہ منظر بڑا عجیب تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ ہماری زمین پر پائے جانے والے مسائل محض اضافی مسائل (relative problems)ہیں۔ یہاں صرف ایک مسئلہ ہے جس کی حیثیت حقیقی مسئلہ (real problem)کی ہے، اور وہ ہے آخرت کا مسئلہ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page