Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲
اصول کے تحت آتا ہے جس کو ان الفاظ کے تحت بیان کیا جاتا ہے: تتغیّر الأحکام بتغیّر الزمان والمکان۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ کے ملی معاملات بگڑ کر رہ جائیں گے۔ خود ہمارے اسلاف نے یہ فقہی اصول مقرر کیا ہے کہ: تتغیّر الأحکام بتغیّر الزمان والمکان۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلاف کا مقرر کیے ہوئے اس اصول کا انطباق کیا ہے، عملی طور پر اس کو کن حالات میں منطبق کیا جائے گا۔ جب بھی زمان ومکان بدلیں گے اور مذکورہ اصول کے مطابق، احکام میں تغیر کیا جائے گا تو یہ تغیر یقینی طور پر اسلاف کا اعادہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ اسلاف کی کہی ہوئی باتوں کے علاوہ کوئی بات ہوگی۔
20 اکتوبر 2009 کو میری تقریر تھی۔ تقریر کا موضوع ’’امن اور اسلام‘‘ تھا۔ میری تقریر انگریزی زبان میں تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اس معاملے میں مسلمانوں کا ذہن واضح نہیں ہے۔ وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ لیکن ہم انصاف کے ساتھ امن (السلام مع العدل) چاہتے ہیں۔ یہ سوچ غیر فطری ہے۔ اس سوچ کے تحت کسی کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ انصاف۔ انصاف امن کا حصہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنی جدوجہد سے کسی کو ملتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ آپ پہلے یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر امن قائم کیجئے۔ امن قائم ہوتے ہی ہر قسم کے مواقع (opportunities) کھل جائیں گے۔ اِن موقع کا بھر پور استعمال کر کے آپ انصاف کو حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک عالم سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عربی زبان میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئی ہیں، وہ عام طور پر شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روایتوں کو لے کر لکھی گئی ہیں۔ اِس طرزِ تفسیر نے قرآن کو بہت محدود کر دیا ہے۔ اسبابِ نزول کی حیثیت ایک وقتی حوالہ (immediate reference) کی ہوتی ہے۔ صرف اسی کو بناۂ تفسیر قرار دینا، قرآن کو محدود کرنے کے ہم معنی ہے۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن (الکهف : 71) میں بتایا گیا ہے کہ خضر نے ایک کشتی کے تختہ کو نکال کر اس کو عیب دار بنا دیا۔ شانِ نزول کے مطابق، مفسرین نے اس واقعے کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues