Al-Risala · March 2010 · page 23

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳

صرف ایک مخصوص کشتی کے ساتھ متعلق سمجھا ہے، مگر یہ تفسیر قرآن کو محدود کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی آدمی کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو بظاہر ناگوار واقعہ ہوتا ہے، لیکن اس واقعے کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا گہرا منصوبہ ہوتا ہے۔ فوری طور پر ایسے واقعے کی توجیہہ سمجھ میں نہیں آتی، لیکن آدمی اگر انتظار کرے تو کچھ دن کے بعد وہ خود سمجھ لے گا کہ ایسا ہونا اس کے حق میں بہتر تھا۔ ایسا واقعہ اس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی تھا۔

20 اکتوبر 2009 کی صبح کو میں ہوٹل کی بالکنی پر بیٹھا ہوا تھا۔ سامنے کی سڑک پر چمک دار کاریں دوڑ رہی تھیں۔ اوپر کی فضا میں کبھی کبھی ہوائی جہاز کے اڑنے کی آواز آتی تھی۔ ہوٹل کے ایک طرف شان دار عمارتیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس منظر کو دیکھ کر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ میرا یہ حال ہے کہ جب میں خوب صورت کاروں کو سڑکوں پر دوڑتے ہوئے دیکھتا ہوں، جب میں ہوائی جہاز کو فضا میں اڑتے ہوئے دیکھتا ہوں، جب میں پر رونق شہروں کو دیکھتا ہوں، تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ خدا کی قدرت کتنی عجیب ہے اُس نے مادی دنیا کے اندر ایسے امکانات رکھے جن کو دریافت کر کے ایک شان دار تہذیب وجود میں لائی جاسکے۔

پھر خدا کی یہ قدرت کتنی عجیب ہے کہ اُس نے انسان کو دماغ عطا کیا جس کو استعمال کر کے انسان یہ تمام کارنامے انجام دے سکے۔ میں نے کہا کہ ہوائی جہاز خدا کی قدرت کا اُڑتا ہوا نشان ہے۔ ٹیلی فون خدا کی قدرت کا بولتا ہوا نشان۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری تہذیب خدا کی قدرت کا ایک زندہ نشان ہے۔ مگر معرفت سے محرومی کی بنا پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تہذیب کی ترقیوں کو انسان کا کرشمہ سمجھتے ہیں، نہ کہ خداوند ذوالجلال کا کرشمہ۔

قرآن کی سورہ نمبر 47 میں جنت کے بارے میں کہا گیا ہے: یدخلهم الجنة عرفها لهم (محمد: 6)۔ جنت اگلی دنیا میں انسان کے سامنے آئے گی، لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ابتدائی تعارف موجودہ دنیا ہی میں کر دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید ٹیکنالوجی نے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page