Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴
یی کام انجام دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جو تہذیب پیدا کی ہے، وہ ایک اعتبار سے، آنے والی جنت کا ابتدائی تعارف ہے۔
مولانابو صالح انیس لقمان ندوی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو واقعات بہت زیادہ یاد رہتے ہیں ۔ انھوں نے ایک مصری لطیفہ بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ مصری لوگ لطیفہ بنانے کے ماہر ہوتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ مصر کے سابق شاہ فاروق (وفات: 1965) نے ایک فورڈ کار منگائی۔ وہ خود اس کو چلانے لگے۔ اُن کا مصاحب بھی ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا۔ شاہ فاروق کو ڈرائیونگ کا زیادہ تجربہ نہ تھا۔ گاڑی چلاتے ہوئے انھوں نے گاڑی کو ایک درخت سے ٹکرا دیا۔ اُن کا مصاحب اس کے بعد فوراً گاڑی سے اترا اور اس نے مودبانہ انداز میں شاہ فاروق سے کہا: الخطأ ليس في قيادتك، وإنما الخطأ في من غرس هذا الشجرة في هذا المكان (جناب، غلطی آپ کی ڈرائیونگ میں نہیں ہے، بلکہ غلطی اُس شخص کی ہے جس نے اس مقام پر یہ درخت لگایا)۔ اس لطیفے کا ایک پہلو یہ ہے کہ عرب دنیا میں آزادی فکر نہ ہونے کا یہ عظیم فقدان ہوا ہے کہ عربوں میں فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ لطیفہ بنانا تو وہ جانتے ہیں، لیکن وہ تخلیقی معنوں میں کوئی علمی بات نہیں کہہ سکتے۔ سعودی عرب کے بارے میں ایک شیخ نے کہا تھا: السعودية مقبرة لعلماء المسلمين (سعودیہ مسلم علماء کا قبرستان ہے)۔ مذکورہ شیخ نے یہ بات دینی زوال کے معنوں میں کہی تھی، لیکن یہ بات فکری زوال کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔ قطر میں شیر یٹن ہوٹل (Sheraton) میں مجھ کو ٹھہرنے کے لیے کافی بڑی جگہ دی گئی تھی۔ میرے دوستھیوں کے لیے دو الگ الگ روم تھے۔ میرے قیام کے لیے ماڈرن انداز کا ایک بڑا سوئیٹ (Suite) تھا۔ کھانے کا نہایت اعلی انتظام تھا۔ یہ ہوٹل بحر عرب کے کنارے بنایا گیا ہے۔ اس طرح میرا سوئیٹ ساحل کے بالکل کنارے تھا۔ یہاں کے خارجی مناظر بھی کافی شان دار تھے، مگر مجھے مسلسل طور پر ایک نامعلوم قسم کی بے سکونی لاحق تھی۔ مجھے ایک لمحہ بھی یہاں خوشی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ میں نے سوچا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ یہ دنیا ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues