Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵
محدود اور غیر کامل دنیا ہے، جب کہ انسان ایک لامحدود ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اس دنیا کی کوئی بھی چیز انسان کو کامل معنوں میں مسرت نہیں دے سکتی۔ اس دنیا میں ہر صورت حال کے ساتھ حزن (sorrow) لازمی طور پر لگا ہوا ہے۔ جنت کی سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہاں حزن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ چناں چہ قرآن میں آیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں پہنچیں گے تو وہ کہیں گے : الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (فاطر : 34)۔
اس آیت سے بلاغت کا ایک نکتہ معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں ”حَزَنَ“ کا لفظ آیا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں اس کے بجائے حُزْن (یوسف : 86) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ لغوی اعتبار سے حُزن اور حزن دونوں بالکل ہم معنی الفاظ ہیں۔ مذکورہ دونوں آیتوں میں اُن کا استعمال اصول بلاغت کی بنا پر ہے، کیوں کہ صوتی آہنگ کے اعتبار سے، ایک جگہ حُزْن کا لفظ زیادہ مناسب ہے اور دوسری جگہ حَزَنَ کا لفظ۔ یہ فرق صرف صوتی آہنگ کی بنا پر ہے، نہ کہ کسی پراسرار سبب کی بنا پر۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ماں کی بہت تعریف کی۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کی ماں کی بات نہیں، ہر آدمی اپنی ماں کے ساتھ اُسی طرح حب شدید کا تعلق رکھتا ہے، جس طرح آپ کو اپنی ماں کے ساتھ حب شدید کا تعلق ہے، لیکن میں اس کو صرف بے خبری کا ایک کیس سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو اپنی ماں کے ساتھ حب شدید کا تعلق کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی ماں کے پیٹ سے ان کا جنم ہوا، پھر وہ دیکھتے ہیں کہ پیدا ہونے کے بعد ان کی ماں نے ان کو پالا پوسا ۔ مگر یہ ایک بے بصیرتی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حب شدید کا تعلق آدمی کو صرف خدا سے ہونا چاہیے۔ خدا کے آپ کے اوپر جو احسانات ہیں، وہ بلین ٹریلین سے بھی زیادہ ہیں۔ آپ کو پیدا کرنے والی آپ کی ماں نہیں ہے، یہ دراصل خدا ہے جس نے آپ کی تخلیق کی۔ خدا نے آپ کو صوّر کم فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (المؤمن : 64) کا درجہ دیا۔ پیدا ہونے کے بعد بھی یہ دراصل خدا ہے جو اس کی پرورش یا تربیت (upbringing) کرتا ہے۔ یہ خدا ہے جس نے آپ کو لائف سپورٹ سسٹم دیا۔ حقیقت
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues