Al-Risala · March 2010 · page 26

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶

یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں 99 فی صد سے زیادہ حصہ خدا کا ہے اور ایک فی صد سے بھی کم حصہ آپ کی ماں کا۔ ایسی حالت میں آپ کے اندر حب شدید کا تعلق خدا سے ہونا چاہئے، نہ کہ اپنی ماں سے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں تمام دنیا کے لوگ اندھے پن کی حد تک بے خبری میں مبتلا ہیں۔ یہاں مجھ پر عجز کا ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان سے یہ دعا نکلی— خدایا، تو نے انسان کو عجز کے ساتھ پیدا کیا۔ ساری قدرت تیری طرف اور سارا عجز انسان کی طرف۔ ایسی حالت میں تو انسان کے معاملے میں غیر جانب دار (indifferent) نہیں ہو سکتا۔ یہ تیری شانِ خداوندی کے خلاف ہے کہ تیرے اور انسان کے درمیان عجز اور غیر جانب داری (indifferent) کا تعلق ہو۔ ایسا تعلق ’’قسمة ضيزى‘‘ کا مصداق بن جائے گا۔ ضروری ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان محروم اور معطی کا تعلق ہو۔ یہی تعلق خدائے رحمان اور رحیم کی شان کے مطابق ہے۔

ایک حدیث میں ایک لمبی دعا آئی ہے، اُس کا حصہ یہ ہے: اللهم إني أسئلك بحق السائلين عليك (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 21)۔ اس پیغمبرانہ دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اگر حقیقی سائل ہے تو اس کا بھی کچھ حق ہوتا ہے، جس طرح بندوں کے اوپر اللہ کے حقوق ہیں، اُسی طرح بندوں کا بھی اللہ کے اوپر کچھ حق ہے۔ تاہم یہ ایک بے حد نازک بات ہے۔ اس حقیقت کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو معرفت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکے ہوں۔

کئی لوگوں سے قیامت کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ سیکولر لوگ جو سائنس کا علم رکھتے ہیں، وہی اس بارے میں سوچتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ قیامت کے معاملے میں بالکل بے خوف ہیں۔ مسلمانوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ ان کے خیال کے مطابق، مہدی اور مسیح تو ابھی آئے نہیں، پھر اس سے پہلے قیامت کیسے آ جائے گی۔ اور اگر قیامت آتی ہے تب بھی مسلمانوں کے لیے وہ کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ مسلمان امت مرحومہ سے نسبت رکھتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ہالی وڈ (Hollywood) نے ایک فلم بنائی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: 2012 End of the world

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page