Al-Risala · January 2010 · page 13

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳

سب سے بڑے مسئلے کے متعلق لوگ بے خبری کا شکار ہیں۔

آٹھ گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد 5 ستمبر 2009 کی صبح کو ہم لوگ مقامی ٹائم کے اعتبار سے ساڑھے چھ بجے زیورک (Zurich) ائر پورٹ پر اتر گئے۔ یہ سوئزر لینڈ کا انٹرنیشنل ائر پورٹ ہے۔ زیورک ائر پورٹ کو کلاٹین ائر پورٹ (Kaloten Airport) بھی کہا جاتا ہے۔ کلاٹین یا کیٹنن (Canton) ایک صوبہ ہے جو سوئزر لینڈ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ زیورک اسی صوبے کا کیپٹل ہے۔ یہاں سے دنیا کے 77 مقامات کے لیے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔

5 ستمبر 2009 کو ہم لوگ زیورک (سوئزر لینڈ) کے ائر پورٹ پر تھے۔ اسی دن سوئزر لینڈ کے دوسرے شہر جنیوا میں ورلڈ کلائمیٹ کانفرنس ہو رہی تھی۔ اس میں مقررین گلوبل وارمنگ اور اس کے نتیجے میں موسمی تبدیلی کے موضوع پر تقریریں کر رہے تھے اور اس کے نقصانات بتا رہے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کانفرنس پر کروڑوں روپے خرچ ہوں گے، لیکن پیشگی طور پر یہ بات معلوم ہے کہ عملاً اس کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ اس طرح کی کانفرنسیں پچھلے برسوں میں بار بار ہو چکی ہیں، لیکن وہ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا براہ راست تعلق جدید انسان کے لائف اسٹائل (life style) سے ہے۔ لائف اسٹائل میں تبدیلی کے لیے کوئی شخص تیار نہیں، اس لیے یہ مسئلہ کبھی حل ہونے والا نہیں۔ مثال کے طور پر ائیر کنڈیشنر بنانے کے کارخانے نہایت مضر گیس پیدا کرتے ہیں۔ لوگ ائر کنڈیشننگ کا طریقہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے ائر کنڈیشننگ کے کارخانے بھی بند ہونے والے نہیں۔ اس طرح کاروں کے ذریعے جو کاربن امیشن (carbon emmission) ہوتا ہے، وہ بے حد مضر ہے۔ مگر لوگ ایسا کرنے والے نہیں کہ وہ کار کو چھوڑ کر بائسکل پر سفر کرنے لگیں۔ اس لیے یہ مسئلہ بھی حل ہونے والا نہیں۔ اس معاملے میں کوئی جبر کام کر سکتا تھا، لیکن بظاہر اس معاملے میں جبر کا بھی کوئی امکان نہیں۔ زیورک ائر پورٹ پر اگلی فلائٹ لینے کے لیے میں نے ویل چیئر کا استعمال کیا۔ میری ویل چیئر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page