Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۲
السنین۔ واللہ وحدہ یشہده علی صدق ما أقول، وإِنّي أعلن شهادتي هذا متحدیا بها العصر الحاضر ومستقبل التاريخ الإسلامي والإنساني بأسره۔ (محمد سلیمان القائد، المركز الثقافي الإسلامي بکیجالی، إفریقیا)
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بیماری اور صحت انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کا ایک بڑا مثبت پہلو ہے۔ ایک شدید بیماری کے بعد جب آدمی کو صحت حاصل ہوتی ہے تو یہ جزئی معنوں میں اُس حقیقت کا تجربہ ہوتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقد خلقتك من قبل ولم تك شيئا (مریم: 9)۔ یہ ہر انسان کا معاملہ ہے کہ پیدائش سے پہلے وہ غیر موجود تھا۔ پیدائش کے بعد وہ وجود میں آگیا۔ یہ ایک حیرت ناک واقعہ ہے۔ مگر آدمی اپنے بارے میں اس طرح سوچ نہیں پاتا۔ وہ اپنے وجود کو فارگرانٹید (for granted) طور پر لئے رہتا ہے۔ اِس بنا پر انسان کو شدید بیماری میں مبتلا کیا جاتا ہے اور پھر اس کو صحت دی جاتی ہے۔ یہ انسان کے ساتھ رحمت کا ایک معاملہ ہے۔ اس تجربے کی صورت میں خدا یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے بارے میں خدا کی اِس عنایت کو دریافت کرے کہ اِس نے ایک غیر موجود انسان کو موجود انسان بنا دیا۔ اس رحمتِ خداوندی کو شدت کے ساتھ محسوس کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی شکرِ خداوندی کا گہرا احساس کرے، وہ شکر کے جذبے سے سرشار ہوجائے۔ ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی اپنی تخلیق کو لے کر سوچا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب معاملہ ہے کہ میں ایک غیر موجود شخص تھا، پھر میں وجود میں آگیا۔ میں اچانک ایک ایسا زندہ انسان بن کر زمین پر چلنے پھرنے لگا جو سوچتا ہے، جو دیکھتا ہے، اور دوسرے بہت سے کام کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح میں بہت کم سوچتا ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues