Al-Risala · March 2010 · page 33

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۳

میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں کم سوچنے کا مطلب ہوتا ہے نہ سوچنا۔ ایک انسان کی حیثیت سے وجود میں آنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اُس پر کم درجے میں سوچا نہیں جا سکتا۔ جب بھی کوئی شخص اس پر سوچے گا تو وہ بڑے درجے میں سوچے گا۔ مثلاً ایک فقیر کو کوئی شخص اچانک ایک بلین ڈالر دے دے اور آپ اُس سے اس کا احساس پوچھیں تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ ہاں، تھوڑ ا تھوڑا محسوس ہو رہا ہے، بلکہ وہ سرشاری کے انداز میں اپنی لغت کے تمام الفاظ استعمال کر ڈالے گا۔

میں نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نے امریکی میگزین ریڈر ڈائجسٹ میں ایک مضمون پڑھا تھا۔ اُس میں بتایا گیا تھا کہ سعودیہ میں جب تیل نکلا تو ایک عرب بدو کو اچانک بہت زیادہ دولت حاصل ہوگئی۔ اس کے ایک دوست نے اس کے پیسے سے سوئزرلینڈ میں اس کے لیے شان دار مکان خریدا، پھر وہ اس عرب کو ہوائی جہاز کے ذریعے سوئزرلینڈ لے گیا اور اُس عرب کو اس نئے مکان میں داخل کر کے کہا کہ یہ تمھا را مکان ہے۔ اُس وقت اُس عرب کا عجیب حال ہوا۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ وہ عرب بار بار اپنے آپ کو چھو کر دیکھتا تھا اور پھر اس مکان کو چھو کر دیکھتا تھا اور کہتا تھا کہ کیا واقعی یہ میں ہوں اور یہ مکان میرا مکان ہے۔

زیادہ بڑی معرفت یہ ہے کہ آپ کو خود اپنے بارے میں اسی قسم کا انوکھا احساس ہونے لگے۔ آپ اپنے آپ کو دیکھیں اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھیں اور حیرت کے ساتھ سوچیں کہ کیا یہ واقعی میں ہوں اور کیا یہ دنیا میری دنیا ہے جس میں مجھے رہنے کا موقع دیا گیا ہے۔ لوگوں کے اندر اعلیٰ معرفت نہیں، اس لیے لوگوں کے اندر اعلیٰ شکر خداوندی کا جذبہ بھی نہیں۔ قطر کے حوالے سے ایک خبر نگاہ سے گزری۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کے بیان کے مطابق، تاجکستان کے دارالحلافہ (دوشنبہ) میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد تعمیر کی جائے گی۔ بیان کے مطابق، اس مسجد کو اٹھارہ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس مسجد میں بیک وقت ڈیڑھ لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہوگی۔ آئندہ سال اس مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا۔ اس مسجد کی تکمیل پر پانچ سال درکار ہوں گے۔ اس مسجد کی تعمیر کے تمام اخراجات

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page