Al-Risala · March 2010 · page 34

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴

دبئی اور قطر کی حکومت نے ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

آج کل ہر جگہ شان دار مسجدیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ فخر کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے، حالاں کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہ کوئی فخر کی چیز نہیں۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ما أُمرتُ بتشييد المساجد (أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب في بناء المساجد) یعنی مجھ کو بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق، حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں پر فخر کریں گے، مگر وہ اس کو (ذکر اور نماز سے) بہت کم آباد کریں گے (يأتي على أمتي زمان يتباهون بالمساجد، ثم لا يعمّرونها إلا قليلاً) فتح الباری، جلد 1، صفحہ 642۔ بلند و بالا عمارت اگر آدمی کو جنت کی یاد دلائے، وہ یہ سوچے کہ جب دنیا میں اس قسم کی خوب صورت عمارت بن سکتی ہے تو جنت کی عمارتیں کتنی زیادہ خوب صورت ہوں گی۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک قابلِ قدر بات ہوگی۔ لیکن اگر بلند و بالا عمارت آدمی کے مادی ذہن میں اضافہ کرے تو وہ بلاشبہ آدمی کے لیے ایک وبال بن جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: كلّ بناء وبال على صاحبه إلّا مالا، إلّا مالا (أبو داؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في البناء)۔

کرنل شیخ عیسیٰ (77 سال) انڈیا میں پیدا ہوئے، پھر وہ پاکستان چلے گئے۔ آج کل وہ قطر میں رہتے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ دینی مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں بہت دن سے مختلف انگریزی ترجموں کی مدد سے قرآن کو پڑھتا تھا، لیکن مجھے کسی ترجمے پر اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ ان ترجموں میں دو چیزیں مجھے پسند نہ تھیں— ایک، ان کی زبان اور دوسرے، ان میں وضوح (clarity) کا نہ ہونا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ادارے سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ چھپا ہے، وہ اس معاملے میں ایک استثناء (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ترجمے کی زبان بھی وقت کے مطابق ہے، اور اس کے اندر وضوح (clarity) بھی پوری طرح پایا جاتا ہے۔

کرنل شیخ عیسیٰ سے پاکستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page