Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
قیادت کا فقدان ہے، اور لیاقت علی خاں کے بعد کوئی صحیح لیڈر وہاں پیدا نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ قیادت کے فقدان کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ قبولیت (acceptance) کے فقدان کا ہے۔ پاکستان میں جنرل ایوب خاں بہترین لیڈر تھے، مگر پاکستانی عوام نے ان کو قبول نہیں کیا۔ 20 اکتوبر 2009 کی صبح کو ہوٹل کے ایک بڑے ہال میں کانفرنس کے افتتاح کی کارروائی ہوئی۔ یہ ایک بہت بڑا اور شاہانہ انداز کا ہال تھا۔ ہر طرف کیمرے والے دوڑتے ہوئے نظر آتے تھے۔ عربی لباس کے لوگ ہر طرف چلتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ، کیف الحال، متی القدوم، أهلاً و سهلاً اور بارك الله فيكم جیسے الفاظ سنائی دے رہے تھے۔ اس پروگرام کی کوآرڈینیٹر ایک سینئر عرب خاتون تھیں ۔ اُن کا پورا بدن برقعہ سے ڈھکا ہوا تھا۔ ان کا نام یہ ہے: الأستاذة الدكتورة عائشة يوسف المناعي، عميدة كلية الشريعة بجامعة قطر۔ افتتاحی تقریر قطر کے ایک منسٹر احمد بن عبد اللہ المحمود نے کی۔ انھوں نے اپنی عربی تقریر میں جن باتوں پر زور دیا، وہ مختلف ادیان کے درمیان قدر مشترک کی تلاش تھی۔ انھوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث وحدانیتِ خلق پر متفق ہیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: انّ ربكم واحد، وإنّ أباكم واحد۔ دوسرے مقررین نے عام طور پر رسمِی انداز کی باتیں کیں۔ ایک مقرر نے کہا کہ ادیانِ سماوی کی یہ خصوصی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ زمانے کے انسانی مسائل میں ان کو رہنمائی دیں۔ انھوں نے کہا کہ ادیانِ سماوی سے وابستہ لوگ موجودہ عالمی آبادی کا 60 فی صد حصہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ سب مل کر موجودہ مسائل پر سوچیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔
یہاں ہر مقرر نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ صرف ایک صاحب نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ اس کے علاوہ تمام تقریریں عربی زبان میں ہوئیں ۔ اس پروگرام میں مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر آیا، مگر مقررین کی طرف سے اس کا کوئی متعین حل سامنے نہ آسکا۔
افتتاحی پروگرام کے موقع پر عرب دنیا کے اکثر بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ اس کے علاوہ شاہی خاندانوں کے کچھ افراد بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ عرب حکومتوں سے متعلق بڑے بڑے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues