Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷
یہ لوگ سیرت رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ”پیغمبر انقلاب“ کا انگریزی ترجمہ (Muhammad A Prophet for All Humanity) اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس کو انھوں نے بڑے پیمانے پر ڈنمارک کے مقامی لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کے بارے میں عام طور پر لوگوں نے مثبت رائے دی۔ فرانس کے ایک صاحب کو 20 اکتوبر 2009 کو ہمارے ساتھی مسٹر ر جت مہلوترانے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اس کو پڑھ کر اگلے دن انھوں نے میرے ساتھی مسٹر رامش صدیقی سے اس کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اس سے پہلے قرآن کے دو انگریزی ترجمے پڑھے تھے، لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مگر آپ کا یہ ترجمہ قرآن پوری طرح سمجھ میں آ رہا ہے۔ ان کا نام یہ ہے: Alain Micmel, Director General Mommes De Parole Faundation. اگلے دن انھوں نے ترجمہ قرآن کا ایک اور نسخہ طلب کیا جو انھیں دے دیا گیا۔ کانفرنس میں ترکی کے ایک پروفیسر الدکتور عبدالحمید براشق سے ملاقات ہوئی۔ قطر یونی ورسٹی میں وہ تفسیر کے پروفیسر ہیں۔ اس سے پہلے وہ پاکستان میں رہ چکے ہیں۔ اس لیے وہ اچھی اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں دہلی میں ہر اتوار کو جو لیکچر ہوتا ہے اور جس کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے، اس کو وہ پابندی کے ساتھ انٹرنیٹ پر سنتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری یونی ورسٹی کی لائبریری میں آپ کی اردو کتابیں موجود ہیں۔
ہمارے ایک ساتھی مسٹر ر جت مہلوترانے کہا جب میں دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہوں اور لوگوں سے مل کر انھیں دعوتی لٹریچر اور قرآن دیتا ہوں تو عجیب خوشی محسوس ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ فطری بات ہے۔ دعوت کا کام خدا کا کام ہے۔ اس کام کو قرآن میں خدا کی نصرت کا کام بتایا گیا ہے۔ اور خدا کی نصرت سے بڑا کون سا کام ہو سکتا ہے۔ یہ احساس کہ میں خدا کے کام میں ہوں، بلاشبہہ اس سے بڑی خوشی اور کسی چیز سے نہیں ہو سکتی۔
یہاں قطر میں ملاقات کے دوران ایک واقعہ معلوم ہوا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues