Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
ہندوستانی عالم جو قطر میں رہتے ہیں، ان کی بیوی نے ان کے بارے میں اپنی ماں سے کہا کہ میں اُن کے نکاح میں ایک سال سے تھی، مگر انھوں نے کبھی خدا اور آخرت کی بات نہیں کی، اگرچہ وہ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے۔ جب سے انھوں نے الرسالہ مشن کی کتابیں پڑھی ہیں، وہ مجھ سے صرف خدا اور آخرت کی بات کرتے ہیں، جب کہ اس سے پہلے وہ دوسری دوسری باتیں کیا کرتے تھے۔ یہی عام طور پر لوگوں کا حال ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ لوگوں نے اس حقیقت کو نہیں جانا کہ عورت کا رول ان کی زندگی میں کیا ہے۔ لوگ عام طور پر عورت کے صرف کم تر رول کو جانتے ہیں، وہ عورت کے برتر رول کو دریافت نہ کر سکے۔ مثلاً ایک صاحب نے اپنی بیوی کی تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ آپ اپنی بیوی میں کیا خاص بات پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ روزانہ مجھ کو اچھے اچھے کھانے پکا کر کھلاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے عورت کو صرف کچن پارٹنر کی حیثیت سے جانا، مگر آپ عورت کو اپنے انٹلیکچول پارٹنر کی حیثیت دریافت نہ کر سکے۔
20 اکتوبر 2009 کو ہوٹل کے ’سلوی ہال‘ میں ایک سیشن کا موضوع یہ تھا: القيم الروحية وتحقيق الوحدة والتضامن:
Achieving Unity and Solidarity Through Spiritual Values اس سیشن میں جن لوگوں نے تقریر کی، ان میں ایک صاحب وہ تھے جو یو کے (U.K) سے آئے ہوئے تھے۔ اُن کا نام یہ تھا— ڈونلڈ (Rev. Donald Reeves)۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ساؤتھ افریقہ کے مشہور لیڈر نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) کے اس قول سے کیا: If you want peace, then talk to your enemies & not with your friends. یعنی اگر تم امن چاہتے ہو تو اپنے دشمن سے بات کرو، نہ کہ اپنے دوستوں سے۔ میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قول ایک غیر فطری قول ہے۔ اصل یہ ہے کہ ”دوست اور دشمن“ کی اصطلاح میں سوچنا چھوڑ دیا جائے۔ انسان کو صرف انسان سمجھا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues