Al-Risala · March 2010 · page 39

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

میں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں، وہی عملی اعتبار سے آپ کا سب سے بڑا دوست ہوتا ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال خود نیلسن منڈیلا کا ملک ساؤتھ افریقہ ہے۔ ساؤتھ افریقہ کو ایک ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کو کس نے ترقی یافتہ ملک بنایا۔ یہ نیلسن منڈیلا یا ان کے ساتھی نہیں تھے، بلکہ وہ باہر سے آئے ہوئے انگریز تھے جن کو نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھی دشمن بتا کر اُن کے خلاف ’’آزادی‘‘ کی لڑائی لڑتے رہے۔

ہمارے ساتھیوں نے مسٹر ڈونلڈ کو انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی دی۔ اس کو دیکھ کر انھوں نے کہا: It looks very beautiful. It can fit into my pocket very easily. 20 اکتوبر 2009 کو میری تقریر سننے کے بعد کانفرنس میں فرینچ زبان کی مترجم مز نفیسہ (Nefissa El Bakly) نے میرے ایک ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

Maulana Wahiduddin Khan has a unique perspective of Islam. اس کانفرنس میں عربی، انگریزی اور فرینچ زبان رائج تھی۔ میں نے انگریزی میں تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانے میں ہر عورت اور مرد پیس (peace) کی بات کرتا ہے، مگر یہ لوگ پوٹکل فارمولے کے ذریعے پیس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ پوٹکل فارمولا اس معاملے میں قابلِ عمل نہیں۔ یہاں اسپر بچول فارمولا درکار ہے۔ یہ اسپر بچول فارمولا قرآن میں دیا گیا ہے، وہ الصلح خیر (النساء: 128) کا فارمولا ہے۔ اسپر بچول فارمولے کا مطلب ہے— معاملے کو یک طرفہ بنیاد پر حل کرنا: To solve the problem on unilateral basis میں نے کہا کہ نزاع کے موقع پر اسپر بچول فارمولا ہی قابلِ عمل فارمولا ہے، نہ کہ پوٹکل فارمولا۔ ایک عرب اسکالر سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہودیوں کے بارے میں بہت سخت الفاظ بولنے لگے— وہ ظالم ہیں، وہ سازشی ہیں، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، یہود کے بارے میں اسی قسم کے منفی خیالات رکھتے ہیں، مگر آپ جیسے لوگ یہود کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page