Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
بارے میں صرف اتنانہی جانتے ہیں کہ 1948 میں وہ فلسطین میں داخل ہوگئے اور یہاں کے ایک حصے پر اسرائیلی حکومت قائم کرلی، وغیرہ۔
مگر یہ ایک ناقص رائے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود نے بہت بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دیئے ہیں، قدیم مسلم اسپین میں بھی اور اسی طرح موجودہ دور میں بھی۔ اس وقت میں دورِ جدید کی نسبت سے ان کے صرف ایک کارنامے کا حوالہ دوں گا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے برابر کا کارنامہ موجودہ زمانے میں کوئی مسلم عالم بھی انجام نہ دے سکا۔
یہ کام پہلی بار ایک یہودی سائنس داں نے کیا، یعنی آئن اسٹائن (Albert Eienstei) نے۔ آئن اسٹائن نے خالص سائنسی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ موجودہ دنیا میں انسان کسی شعبے میں صرف اضافی علم (relative knowledge) تک پہنچ سکتا ہے، حقیقی علم (real knowledge) تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن ممکن ہے—ایک، یہ کہ وہ ہمیشہ تشکیک (scepticism) میں مبتلا رہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ علمی امکان (probability) پر اپنے یقین کی بنیاد رکھے۔ چوں کہ اس دنیا میں تشکیک کوئی قابلِ عمل نظریہ نہیں، اس لیے انسان مجبور ہے کہ وہ علمی امکان کو اپنے یقینی علم کی بنیاد بنائے۔ قرآن کے مطابق، یہی کسی انسان کا ٹسٹ پر پورا اترنا ہے۔ میری بات سن کر مذکورہ عرب اسکالر نے کہا کہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا تھا، اب میں اس پر غور کروں گا۔
قرآن میں مومن کی ایک صفت سیاحت (سفر) بتائی گئی ہے (التوبۃ: 112)۔ مگر موجودہ زمانے میں عام طور پر سفر تفریحی سفر کے ہم معنی بن گیا ہے، جب کہ قرآنی سیاحت کا مطلب معرفت کی سیاحت ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان معرفت کے سفر سے تقریباً آشنا ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حج اور عمرہ کا سفر آج کل صرف آؤٹنگ (outing) کے ہم معنی بن گیا ہے۔ مسلم جرائد میں اکثر مسلمانوں کے سفر نامے چھپتے رہتے ہیں، لیکن وہ جدید اصطلاح میں ٹورازم (tourism) کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر حال میں ایک معروف عالم کا سفرنامہ ایک ماہ نامہ میں نظر سے گزرا۔ یہ سفر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues