Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
ارضِ اُردن (عُمّان) کے لیے تھا۔ اس سفر نامے کا آغاز کچھ اس طرح تھا:
”یہ ایک چمکیلی شام تھی۔ میری بیٹی کے یہاں سب جمع تھے۔ میرے ایک عزیز ابھی ابھی اردن میں بحرِ میت کے کنارے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس لوٹے تھے۔ ان کا بیگ یادگاری تحائف بانٹنے کا منتظر تھا۔ بیگ کھلتا چلا گیا اور آخر میں پانی سے بھری ہوئی ایک بوتل نکلی۔ میرے عزیز نے کہا: اب کچھ تماشا ہو جائے— بچوں سمیت ہر شخص بحرِ میت کے اس پانی کو چکھے گا اور اگر وہ اس کا ذائقہ سہارہ نہ سکا تو گلاس حاضر ہے، وہ اس میں تھوک دے۔ سب سے پہلے بچوں کی باری تھی۔ ایک کے بعد دوسرا اس پانی کا ایک ایک گھونٹ چکتا گیا اور منہ بنا کر اسے اُگلتا رہا۔ میرے بھائیوں میں سے ایک بھائی بھی مع اپنی اہلیہ کے حاضر تھے۔ وہ دونوں بھی اس تجربے سے محظوظ ہوئے۔ آخر میں گھر کے سب سے بزرگ فرد یعنی راقم کی باری تھی۔ میں نے تمغۂ شجاعت کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے پانی کے دو گھونٹ گھٹا گھٹ چڑھا لیے۔ بحرِ مردار کے پانی میں نمک کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس کا پینا آفتِ جان ہو سکتا ہے۔ جوں ہی یہ پانی معدہ سے ٹکرایا تو پیٹ میں ایک بھونچال برپا ہو گیا۔ اب ایسا معلوم ہوا کہ شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اپنی بہت سی نادانیوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا“۔
اول یہ کہ یہ زبان مومنِ سائح کی زبان نہیں ہے۔ مومنِ سائح کے کلام میں جو سنجیدگی ہونی چاہیے، وہ اس عبارت میں مفقود ہے۔ دوسری بات یہ کہ مومن کی سیاحت عبرت اور نصیحت کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ ”تماشا“ کے لیے۔ مذکورہ عبارت میں جس پانی کا ذکر ہے، وہ بحرِ مردار (Dead Sea) کا پانی تھا۔ بحرِ مردار اُس خدائی عذاب کے باقیات میں سے ہے جو قومِ لوط پر آیا تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان آثار میں اہلِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں (الحجر : 77-75)۔ لیکن موجودہ زمانے کے مسلمان وہاں سے گزرتے ہیں اور وہاں انھیں تفریح اور تماشے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے گھر کا جو ماحول ہوتا ہے، اس کی ایک تصویر مذکورہ اقتباس میں نظر آتی ہے۔ اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کا ماحول بے حسی کا ماحول بن گیا ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جو موجودہ زمانے میں بچوں کو بگاڑ رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues