No victors, only survivors
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴
چلانے والا ایک سوئس نوجوان تھا۔ بات چیت کے درمیان معلوم ہوا کہ یہاں وہیل چر چلانے والے کو سپیشل اسسٹنٹ (special assistant) کہا جاتا ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ وہ یونی ورسٹی میں ایم اے (اکنامکس) کا سٹوڈنٹ ہے۔ وہ اپنی معاشی ضرورت کے لیے فارغ اوقات میں وہیل چر چلاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے اس نوجوان کو اور ائر پورٹ کے عملے کے مختلف افراد کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ ان لوگوں نے تھینک یو کے ساتھ اس کو قبول کیا۔
زیورک سے دوسرا جہاز وارسا (Warsaw) کے لیے تھا۔ زیورک سوئٹزر لینڈ کا ایک شہر ہے اور وارسا پولینڈ کا ایک شہر۔ زیورک سے وارسا کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر ہے، جو سوئس ائر ویز کی فلائٹ نمبر 1342 LX کے ذریعے دو گھنٹے میں طے ہوا۔
جہاز میں پرواز کرتے ہوئے سوئٹزر لینڈ کا ایک طائرانہ منظر دکھائی دیا۔ سوئٹزر لینڈ پہاڑوں سے گہرا ہوا ملک ہے۔ یہ پہاڑ خشک پہاڑ نہیں ہیں، بلکہ سرسبز پہاڑ ہیں۔ اس بنا پر سوئٹزر لینڈ مثالی خوب صورتی کا ملک بن گیا ہے۔ یہاں دور تک پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ ہمارے نیچے پہاڑی مناظر تھے اور ہم اس کے اوپر تیز رفتار جہاز کے ذریعے پرواز کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ جہاز اپنی اصل کے اعتبار سے صرف مادہ (matter) ہے، لیکن یہ مادہ انسان کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ابتدائی زمانے میں حیوان متحرک ہو کر سواری کا کام دیتے تھے۔ اب مادہ متحرک ہو کر زیادہ بہتر طور پر انسان کے لیے سواری کا کام کر رہا ہے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب ہے کہ انسان اگر اس کو حقیقی طور پر محسوس کرے تو وہ چاہے گا کہ میں ساری عمر خدا کے آگے سجدہ شکر میں پڑا رہوں۔ 5 ستمبر 2009 کی صبح کو 9 بجے ہم لوگ وارسا (Warsaw) پہنچے۔ یہاں ہم کو اگلا جہاز لینے کے لیے تقریباً چار گھنٹے ٹھہرنا تھا۔ میں اور میرے ساتھی جہاز سے اتر کر وارسا ائر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچے۔ اُس وقت یہاں ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔ لاؤنج میں ہر طرح کا انتظام تھا۔ کھانے پینے کی اشیاء بھی وافر مقدار میں موجود تھیں۔ ہم لوگوں نے یہاں چار گھنٹے کا وقت گزارا۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے ائر پورٹ اور لاؤنج کے عملہ کو قرآن کا انگریزی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues