Al-Risala · March 2010 · page 42

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲

مسلمان اپنے بچوں کے بگڑ کے لیے خارجی چیزوں کی شکایت کرتے ہیں، حالاں کہ یہ دراصل اُن کا اپنا گھر ہے جو اُن کے بچوں کے بگڑ کا اصل ذریعہ ہے۔ بچوں کی اصلاح کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے اندر آخرت کا احساس پیدا ہو جائے، جب کہ مذکورہ قسم کے گھر میں بچوں کے اندر احساسِ دنیا پیدا ہوتا ہے، نہ کہ احساسِ آخرت۔ جو لوگ آخرت میں خدا کی رحمت سے محروم قرار پائیں گے، ان کے گھروں کی تصویر قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں خوش وخرم (الإنشقاق: 13) رہتے تھے۔ بچوں کی اصلاح کا تعلق خارجی ’’وعظ‘‘ سے نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر گھر کے داخلی ماحول پر منحصر ہے۔

میرے ساتھی اس سفر میں رات دن صرف ایک کام کے لیے دوڑ رہے تھے، اور وہ ہے— قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر لوگوں تک پہنچانا۔ اسی کا نام مشنری اسپرٹ ہے۔ مشنری اسپرٹ دراصل اس احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ شاید اس سے بڑی کوئی قوت محرکہ (incentive force) نہیں۔ یہ سادہ بات نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو حدیث کے مطابق، ’’ادخال کلمہ‘‘ کا کام انجام دے رہے ہیں۔ قطر کی اس کانفرنس میں ہر ملک کے مسلم علماء آئے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، ہر مذہب کے نمائندے بھی یہاں موجود تھے۔ مگر کسی بھی ملک کے مسلمان نے یہ نہیں کیا کہ وہ قرآن کا ترجمہ یا اسلامی لٹریچر حاضرین کو مطالعے کے لیے دے۔ یہ صرف سی پی ایس کے لوگ تھے جو دوڑ دوڑ کر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دے رہے تھے۔ تمام لوگ اس کو بڑے شوق سے لے رہے تھے اور مزید نسخوں کا مطالبہ کرتے تھے، تاکہ وہ اسے دوسروں کو دے سکیں۔

ہمارے ساتھی ایک صاحب سے ملے۔ وہ مراکو سے آئے ہوئے تھے۔ وہ کئی ملکوں میں مراکو کے سفیر رہ چکے ہیں۔ اُن کو قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی دی گئی۔ انھوں نے تین اور کاپی مانگی۔ انھوں نے کہا کہ اس کو میں شاہی محل میں پہنچاؤں گا۔ اسی طرح ہر ایک نے نہایت شوق کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ لیا، جیسے وہ پہلے سے اس کے منتظر تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page