Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۴۴
استعمار کے دور میں ظاہر ہوا جس نے امت اسلامیہ کو اپنا نشانہ بنایا تھا (منذ حل يقارب القرن من الزمن بدأت تدبّ فى علم العقيدة حركة بعث و تجديد. ربّما كان الدار ع إليها شدّة التحدى للعقيدة الإسلامية من قبل الغرب - صفحہ (23)۔
قدیم علم کلام بلاشبہ یونانیات کے ردعمل میں پیدا ہوا تھا، لیکن جدید علم کلام کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ جدید علمِ کلام کی ضرورت اصلا کسی استعمارى حملہ کے نتیجے میں پیدا ہوئی، بلکہ وہ خود علم کے نئے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ جدید سائنسی علم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی عقیدے پر کوئی حملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اسلامی عقیدے کے لیے علمی تائید کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک مثبت ظاہر ہ ہے، نہ کہ منفی ظاہر ہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جدید سائنس موجودہ زمانے میں اسلام کا علم کلام ہے۔ عباسی دور کا علمِ کلام ایک دفاعی علم کے طور پر پیدا ہوا تھا، لیکن دورِ جدید کے علم کلام کی حیثیت اس سے مختلف ہے۔ دورِ جدید میں علم کلام کا مطلب ہے ۔ جدید علمی مُسَلَّمات کی روشنی میں اسلامی عقیدے کا از سر نو اظہار۔
22 اکتوبر 2009 کی شام کو مولانا محمد شاہد خان ندوی اپنی اہلیہ کے ساتھ ہوٹل میں ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ ہماری چھ کتابیں ضرور پڑھیں ــ خاتونِ اسلام ، عورت معمار انسانیت ، رازِ حیات ، تعمیرِ حیات ، رہنمائے حیات ، کتابِ زندگی ۔ اس کے بعد میں نے دونوں سے کہا کہ عورت صرف گھر کی رفیقہ نہیں ہے، بلکہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین اِنٹیلکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ دونوں شعوری طور پر اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ دونوں بہت دیر تک ہوٹل میں ہمارے پاس رہے۔ ان سے دعوت الی اللہ کے موضوع پر بھی بات ہوئی ۔
22 اکتوبر 2009 کی شام کو قطر سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ ہوٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ قطر ائیر پورٹ پہنچے۔ یہاں انتظار کے طور پر کچھ دیر ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ہمارا قیام تھا ۔ یہ لاؤنج محل کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ دیگر سہولیات کے علاوہ ، یہاں کھانے پینے کا بھی اعلیٰ انتظام تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues