Al-Risala · January 2010 · page 15

We are already in Paradise

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵

ترجمہ دیا۔ ان لوگوں نے شکریہ کے ساتھ اس کو لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ یہاں ائیرپورٹ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے ایک ساتھی نے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے چند نوجوانوں کو انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی پمفلٹ (The Road to Paradise) دیا۔ اس کو انھوں نے شکریہ کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد اُن میں سے ایک نوجوان نے پمفلٹ کے ٹائٹل کو دیکھتے ہوئے کہا:

We are already in Paradise

جدید مادی ترقیوں نے جو دنیا بنائی ہے، وہ اتنی پرکشش ہے کہ ہر آدمی اس میں گم ہو گیا ہے، ہر آدمی کی کوشش صرف ایک ہے— زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اور دنیا میں اپنے لیے ایک جنت بنانا۔ موجودہ زمانے میں یہ حال تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا ہے، حتی کہ اُن لوگوں کا بھی جو بظاہر جنت پر عقیدہ رکھتے ہیں، لیکن اب ان کا عقیدہ محض ایک رسمی عقیدہ بن چکا ہے۔ عملی طور پر دیکھیے تو جنت کا عقیدہ رکھنے والوں اور جنت کا انکار کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ گفتگو اور تقریر کا فرق نہیں سمجھتے۔ مثلاً ایک شخص اگر اسٹیج پر دھوم سے تقریر کرتا ہے تو وہ بات چیت (conversation) میں بھی اسی طرح دھوم کے ساتھ بولنے لگتا ہے۔ وہ تقریر اور گفتگو کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھتا، حالاں کہ تقریر اور گفتگو کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔

ایک شخص جب اسٹیج پر تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اُس وقت ایک بولنے والا ہوتا ہے اور دوسرا سننے والا۔ یہ گویا کہ یک طرفہ بات (monologue) کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر بولنے والا دھوم سے بولے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن جب وہ کسی موضوع پر ایک شخص سے بات کرتا ہے تو وہ دو طرفہ بات (dialogue) کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہ ایک تبادلۂ خیال ہے جس میں آدمی کو سننا بھی ہے اور سننا بھی ہے۔ اس لیے دوطرفہ گفتگو کے موقع پر آدمی کو نہ تو دھوم سے بولنا چاہیے اور نہ اُس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اتنی لمبی گفتگو کرے کہ دوسرے کو اپنی بات کہنے کا موقع ہی نہ ملے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page