Al-Risala · April 2010 · page 11

خیرامت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱

یہی بات قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے (ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون - المائدة : 78)۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ۔ آپ نے فرمایا : اُس ذات کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے (لعنت کی حالت باقی رہے گی ) یہاں تک کہ تم ان کو پوری کوشش سے روک دو۔

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : کلا، واللہ لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، ولتأخذنّ على يدى الظالم، ولتأطرنّه على الحق أطراً، ولتقصرنّه على الحق قصْراً، أو ليضربنّ اللہ بقلوب بعضكم على بعض، ثم لیلعننّکم كما لعنهم (أبو داؤد، كتاب الملاحم) یعنی ہرگز نہیں، تم کو ضرور (آپس میں) معروف کا حکم دینا ہوگا اور تم کو ضرور (آپس میں) منکر سے روکنا ہوگا، تم کو ضرور (آپس میں) ظالم کے ہاتھ کو پکڑنا ہوگا، تم کو ضرور اُسے حق کی طرف موڑنا ہوگا، تم کو ضرور اُس کو حق کی طرف لوٹانا ہوگا، ورنہ اللہ ضرور تمھارے دلوں کو ایک دوسرے سے متاثر کر دے گا، پھر تم پر وہ اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح اُس نے اس سے پہلے یہود پر لعنت کی ۔

لعنت کوئی پراسرار لفظ نہیں۔ لعنت سے مراد ہے۔ امت کے خیر کی حیثیت کا چھن جانا، یعنی جب تک امت کے افراد، خاص طور پر اس کے علماء امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل کو واقعی طور پر زندہ رکھیں گے، اُس وقت تک امت خیر پر باقی رہے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل حقیقی طور پر جاری نہ رہے تو اُس وقت امت کے خیر کی حیثیت لازماً چھن جائے گی۔ اور خیر کی حیثیت کے چھن جانے ہی کا دوسرا نام لعنت ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد صرف کچھ جزئی چیزیں نہیں ہیں۔ مثلاً کسی مسلمان کا پاجامہ ٹخنے سے نیچا ہو تو آپ کہیں کہ اپنا پاجامہ ٹخنے سے اوپر کرو، کسی مسلمان کی داڑھی چھوٹی ہو تو آپ کہیں کہ اپنی داڑھی بڑھاؤ، کسی مسلمان کے سر پر ٹوپی نہ ہو تو آپ کہیں کہ اپنے سر پر ٹوپی رکھو، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں شریعت سے زیادہ مسلم کلچر کا حصہ ہیں، اور مسلم کلچر کا تحفظ اپنی حیثیت کے اعتبار سے، صرف ایک قومی کام ہے۔ اس قسم کی باتوں سے ہرگز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page